Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2015
Al-Risala December 2015

اعتراف، بے اعترافی

Urdu · 2 min read

المتنبی (وفات : 965 )عربی زبان کا ایک نامور شاعرہے۔ اس کے اشعار حکمت اور فلسفۂ حیات کے لیے مشہور ہیں۔ المتنبی نے اپنے ایک شعر میں کہا— اگر تم شریف انسان سے عزت کا معاملہ کرو تو تم اس کے مالک بن جاؤگے، اور اگر تم کمینہ انسان کے ساتھ عزت کا معاملہ کرو تو وہ سرکشی کرے گا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

إذا أنت أکرمت الکریم ملکتہ وإن أنت أکرمت اللئیم تمردا

شریف آدمی کا مزاج حقیقت پسندی کا مزاج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے تو وہ جھک جائے گا، وہ اس کا بھرپور اعتراف کرے گا۔ اس کا حقیقت پسندی کا ذہن اُس کو اِس سے روکتا ہے کہ وہ کوئی ایسی بات کہے جو امر واقعہ کے خلاف ہو۔ شرافت اور اعتراف، دونوں ہمیشہ ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ شریف آدمی اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ اس کے ساتھ اگر کسی نے اچھا سلوک کیا ہے تو وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔

غیر شریف آدمی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ غیر شریف آدمی ایک خود پسند آدمی ہوتا ہے۔ وہ کام کا کریڈٹ خود لینا چاہتا ہے۔ اس مزاج کی بنا پر اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنا چھوٹا کام بڑا کام دکھائی دیتا ہے، اور دوسرے کا بڑا کام یا تو نظر نہیں آتا یا اصل سے کم نظر آتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ شریف آدمی زندہ قوم کا فرد ہوتاہے، اور غیر شریف آدمی زوال یافتہ قوم کا فرد۔ زندہ قوم کی صفات میں سے ایک اہم صفت حقیقتِ واقعہ کا اعتراف ہے۔ زندہ قوم کا فرد اِس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ ایک حقیقت کو جانے، اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ اس کے برعکس، زوال یافتہ قوم کا حال یہ ہوتا ہےکہ اس کے افراد حساسیت سے خالی ہوجاتے ہیں۔ وہ حقیقت کے مقابلے میں اپنے آپ کو زیادہ بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو زوال یافتہ قوم کے افراد کے اندر تمرد پیدا کردیتی ہے یعنی بے اعترافی کا مزاج ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content