قرآن میں بار بار بتایا گیا ہے کہ انسان کا اصل دشمن شیطان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ شیطان کے معاملے میں ہوشیار رہے۔ جس نے اپنے آپ کو شیطان کے فریب سے بچایا، وہی اللہ کی نظر میں کامیاب انسان ہے۔ شیطان کے بہکانے کا طریقہ کیا ہے۔ یہ طریقہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: وَشَارِکْہُمْ فِی الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْہُمْ ۔(17:64) اور مال اور اولاد میں ان کا شریک بن جا، اور ان سے وعدہ کر۔
قرآن کی اس آیت میں مال اور اولاد کا لفظ علامتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے تمام معاملات میں اس کے ساتھ شامل ہوجا۔ وعدہ کا لفظ یہاں اَمانی کے مفہوم میں ہے۔ یعنی لوگوں کو خوش فہمی (wishful thinking) میں مبتلا کرنا۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے شیطان لوگوں کو راستے سے بھٹکا دیتا ہے۔
شیطان کے بہکانے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ ایک خارجی شخص کی حیثیت سے لوگوں کے پاس آئے، لوگ اس سے باخبر ہوں کہ یہ شیطان ہے، پھر وہ لوگوں کو خارجی مشورہ کے ذریعے گمراہی میں ڈال دے۔ شیطان آدمی کے پاس ایک خارجی مشیر کی حیثیت سے نہیں آتا۔ بلکہ وہ انسان کے ذہن میں داخل ہوکراس کی سوچ کو متاثر کرکے اس کو ایسا بنادیتا ہے کہ وہ جو کچھ کریں ، اس طرح کریں جیسے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ خود اپنی سوچ کے تحت کررہے ہیں۔
مثلاً ایک شخص کو دوسرے شخص سے ایک ذاتی شکایت پیدا ہوئی ۔ اس وقت شیطان اس کی سوچ میں داخل ہوکر اس کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ اس کی سوچ ایک درست (genuine) سوچ ہے۔ یہی شیطانی تزئین ہے۔ اس وقت جو آدمی اس راز کو جان لے کہ میں شیطان کی مداخلت سے ایسا سوچنے لگا ہوں، اس نے اپنے آپ کو ہلاکت سے بچایا، اور جو آدمی اس طرح نہ سوچے، وہی وہ شخص ہے جو ہلاک ہوا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔