اسلام میں نماز اور روزہ بھی عبادت ہے، اور دعوت الی اللہ کا کام بھی عبادت ہے۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ نماز اور روزہ جیسا عمل کامل طور پر اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں انسان کی ساری توجہ ایک اللہ کی طرف ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگتا ہے، اور اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے لگتا ہے۔ یہی ان عبادات کا کمال ہے۔
دعوت الی اللہ بھی ایک عبادت ہے مگر یہاں ایک فرق ہے۔ دعوت کا عمل انسان کے اوپر کیا جاتا ہے۔ دعوت کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام مدعو کے دل میں اتر جائے۔ مدعو اپنے آپ کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے۔
دعوت کا معیارداخلی نیت کے اعتبار سے یہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے ہو، لیکن ظاہر کے اعتبار سے داعی کی سرگرمیوں کا نشانہ انسان ہوتا ہے۔ اس لیے دعوت کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر انسان فرینڈلی (human-friendly) ہو۔ وہ یک طرفہ طور پر انسان کی خیرخواہی کے جذبے پر مبنی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام صبر کے بغیر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اسی لیے دعوت کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ۔ (7:74) داعی اپنے مدعو سے کسی شرط کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ داعی کو یک طرفہ طور پر خود یہ ذمہ داری لینا ہوتا ہے کہ داعی کی بات مدعوکے دل میں اتر جائے۔ داعی کے اندر اگر یک طرفہ خیر خواہی کا جذبہ نہ ہو تو وہ کبھی دعوت کا کام حقیقی طور پر انجام نہیں دے سکتا۔ قرآن میں داعی کو ناصح (7:68) کہا گیا ہے۔ ناصح کا مطلب خیرخواہ (well-wisher) ہے۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ طورپر مدعو کا خیر خواہ ہو۔ اس یک طرفہ خیر خواہی کے بغیر کوئی شخص اللہ کی نظر میں داعی کا مقام نہیں پا سکتا۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مدعو کی ہدایت کا حریص (9:128) بن جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔