قرآن میں اہل نفاق کا ذکر کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ لَا تُفْسِدُوا فِی الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (2:11) یعنی اور جب ان سے کہا جا تا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
قرآن کی اس آیت کا تعلق ظلم و تشدد جیسی چیزوںسے نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ آیت مکہ میں نازل ہوتی، جہاں عملاً ایسا کیا جارہا تھا۔ یہ آیت مدینہ میں اتری، اور اس کو اہل نفاق کا عمل بتایا گیا۔ جیسا کہ معلوم ہےمدینہ کے منافقین ظلم اور تشدد جیسی کارروائی نہیں کر رہے تھے۔ تواس آیت میں وہی فعل مراد لیا جائے گا جو مدینہ کے منافقین عملا کر رہے تھے۔
اس پہلو سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں جس چیز کو فساد فی الارض بتایا گیا ہے اس سے مراداہل نفاق کی وہ منفی کار روائیاںہیں جو توحید کی تحریک کے خلاف وہ مدینہ میں چلارہے تھے۔ وہ لوگ بظاہر مسلمان تھے لیکن وہ اپنے ایمان میں مخلص نہ تھے۔ ان کو مسلمانوں سے بغض تھا، لیکن وہ دنیوی مفاد کے تحت مسلمانوں سے وابستہ ہو گیےتھے۔ ان کا اصل مقصود دنیوی مفاد تھا نہ کہ اخروی مفاد۔
جب انھوں نے دیکھا کہ مخلص مسلمان اسلام میں ترقی کررہے ہیں تو ان کو مخلص اہل ایمان سے حسد ہوگیا۔ وہ ان کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ مخلص اہل ایمان کے کام کو کمتر کرکے دکھانے لگے۔ وہ ایسی باتیں کرنے لگے جس سے مخلص اہل ایمان کی تصویر (image) لوگوں کی نظروں میں خراب ہوجائے۔ اسی منافقانہ روش کو قرآن میں زمین میں فساد پھیلانا کہا گیا ہے۔
وہ سازشی انداز میں اہل ایمان کےخلاف معاندانہ کارروائی کرتے تھے۔ یعنی ان کو بدنام کرنا، ان کی تصویر بگاڑنا، ان کے کام کو گھٹا کر پیش کرنا،ان کےخلاف ایسی باتیں کہنا جس سے ان کے اندر آپسی نفرت پھیل جائے، لوگ ان کی طرف متوجہ ہونا چھوڑدیں۔ اہل انکار کا طریقہ کھلی دشمنی ہوتا ہے، اور اہل نفاق کا طریقہ چھپی دشمنی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔