صحیح البخاری میں ایک روایت ترجمہ باب: خوف المؤمن من أن یحبط عملہ وہو لا یشعر کے تحت نقل کی گئی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: عن عبادة بن الصامت، أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم خرج یخبر بلیلة القدر، فتلاحى رجلان من المسلمین فقال: إنی خرجت لأخبرکم بلیلة القدر، وإنہ تلاحى فلان وفلان، فرفعت۔ (حدیث نمبر 49) عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے کہ شب قدر کے بارے میں بتادیں، پھر مسلمانوں میں سے دو شخص آپس میں جھگڑنے لگے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نکلا تاکہ میں تم کو شب قدر کے بارے میں بتادوں، پھر فلاں اور فلاں آپس میں جھگڑنے لگے،تو اس کا علم اٹھالیا گیا۔
یہ حدیث صرف شب قدر کے بارے میں نہیں ہے بلکہ وہ مسلمانوں کے بارے میں اللہ کی ایک سنت کو بتا رہی ہے۔ وہ سنت یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے درمیان باہمی اتحاد ہو تو ان پر اللہ کی رحمت اور نصرت نازل ہوگی۔ اس کی بنا پر وہ اپنی زندگی میں کامیاب رہیں گے۔ لیکن اگر مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑا کرنے میں مبتلا ہوں تو وہ رحمت بھی ان سے واپس چلی جائے گی جو ان کے لیے اللہ کی طرف سے مقدر کی گئی تھی۔
جھگڑا کیا ہے۔ وہ ایک سلسلۂ واقعات کا نام ہے۔پہلے رائے کا اختلاف پیدا ہوتا ہے،پھر وہ باہمی نفرت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوجاتا ہے۔ پھر مزید بڑھ کر یہ ہوتا ہے کہ لوگ آپس میں باقاعدہ لڑنے لگتے ہیں۔ جب مسلمانوں کا حال یہ ہوجائے تو وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوجاتے ہیں، نہ کہ اللہ کی رحمت کے مستحق۔
رائے کا اختلاف ایک فطری چیز ہے، لیکن رائے کے اختلاف کو قطع تعلق اور عناد تک پہنچادینا ، بلاشبہ ایک برائی ہے۔ وہ نہ صرف لوگوں کے درمیان باہمی اتحاد کو ختم کردیتی ہے، بلکہ اس کے بعد مثبت دینی کام کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔