پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو معاصر لوگ ایمان لائے ان میں سے ایک وہ تھے جو دین شرک پر قائم تھے۔ رسول اللہ سے پیغامِ حق سننے کے بعد انھوں نے دین شرک کو چھوڑا، اور دینِ توحید کو انھوں نے اختیار کیا۔ دوسرا گروہ وہ تھا جس کا تعلق مدینہ سے تھا۔ یہ اہل کتاب (یہود)تھے۔ یعنی پچھلے پیغمبر حضرت موسیٰ کو ماننے والے۔ ان کا ایمان گویا دین خداوندی پر دوبارہ ایمان لانا تھا۔
پہلا ایمان ان کو اپنے ماحول میں وراثت کے طور پر ملا تھا۔ گویا کہ وہ پیدائشی مسلم (Muslim by birth)تھے۔ اس کے بعد جب پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی،اور انھوں نے آپ کو بحیثیت پیغمبر کے پہچانا اور آپ پر ایمان لائے تو گویا کہ انھوں نے دین خداوندی کو ازسرِ نو دریافت (rediscover) کیا۔ وہ پیغمبر ِ اسلام پر ایمان لائے تو وہ گویا کہ مسلم بائی چوائس (Muslim by choice) بنے۔ انھوں نے دینِ حق کی معرفت دوبارہ حاصل کی ۔ ان کے ایمان کا یہی اضافی پہلو ہے جس کی بنا پر وہ دوہرا اجر کے مستحق قرار پائے۔
جو دین آدمی کو پیدائشی طور پر ملے اس کے لیے اس کو کوئی جدو جہد کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ لیکن ایک شخص جب دریافت نو (rediscovery) کے طور پر اللہ کے دین کو پائے تو یہ اس کے لیے ہمیشہ ایک فکری جہاد (intellectual Jihad) کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسا کرنے کے بعد وہ اپنے بارے میں تخلیقی سوچ (creative thinking) کا ثبوت دیتا ہے، وہ رواجی ایمان سے اوپر اٹھ کر شعوری ایمان کا درجہ پاتا ہے۔ ایمان کا تعلق معرفت سے ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو پہلے سے حضرت موسیٰ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ یہ ان کی پہلی معرفت تھی۔ اس کے بعد جب وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو انھوں نے گویا اپنے ایمان کے بارے میں معرفت ثانی کا ثبوت دیا۔ اس لیے وہ دوہرے اجر کے مستحق قرار پائے۔پہلی معرفت اگر ان کو خود بخود وراثۃً ملی تھی تو دوسری معرفت انھوں نے شعوری طور پر ایک فکری جدو جہد کے بعد حاصل کی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔