ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں: إن بین یدی الساعة لہرجا، قال: قلت: یا رسول اللہ، ما الہرج؟ قال: القتل ، فقال بعض المسلمین: یا رسول اللہ، إنا نقتل الآن فی العام الواحد من المشرکین کذا وکذا، فقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:لیس بقتل المشرکین، ولکن یقتل بعضکم بعضا، حتى یقتل الرجل جارہ، وابن عمہ وذا قرابتہ ، فقال بعض القوم: یا رسول اللہ، ومعنا عقولنا ذلک الیوم؟ فقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: لا، تنزع عقول أکثر ذلک الزمان، ویخلف لہ ہباء من الناس لا عقول لہم۔ (حدیث نمبر: 3959) یعنی بے شک قیامت سے پہلے ہرج کا زمانہ ہوگا۔ صحابہ نے پوچھا ، اے اللہ کے رسول ہرج کیا ہے، آپ نے فرمایا کہ قتل۔ مسلمانوں میں سے بعض نے کہا، اے اللہ کے رسول، اِس وقت ایک سال میں مشرکین میں سے اتنے اتنے کو ہم قتل کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری مراد مشرکین کے قتل سے نہیں ہے۔ بلکہ تم میں سے بعض بعض کو قتل کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک شخص اپنے پڑوسی کو قتل کرے گا، اور اپنے چچا کے بیٹے کو ،اور اپنے رشتہ داروں کو۔پھر لوگوں میں سے بعض نے کہا اے اللہ کے رسول، کیا ان دنوں ہمارے ساتھ عقل ہوگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس زمانے کے اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی، لوگ غبار کی طرح باقی رہیں گے، ان کو عقل نہ ہوگی۔
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں کی عقلیں چھن جائیں گی۔ اس کی ایک علامت یہ ہوگی کہ وہ خود اپنی قوم کے لوگوں کو قتل کریں گے۔ عقل چھن جانے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت باقی نہ رہے گی کہ وہ واقعات کی صحیح توجیہہ کریں۔ چناں چہ غلط توجیہہ کے ذریعے وہ اپنے دشمن کو اپنا دوست سمجھیں گے، اور اپنے دوست کو اپنا دشمن قرار دیں گے۔ اسی غلط توجیہہ کو حدیث میں عقل چھننے سے تعبیر کیا گیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔