قرآن میں بتایا گیاہے کہ ایک انسان کو مارنا سارےانسانوں کو مارڈالنے کے برابر ہے، اور ایک انسان کو زندگی دینا سارے انسانوں کو زندگی دینے کے برابر ہے (5:32)۔
اس معاملے کی اتنی زیادہ سنگینی (seriousness) کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے براہِ راست طورپر اللہ رب العالمین کا معاملہ ہے۔ اگر چہ بظاہر وہ انسان کا معاملہ دکھائی دیتاہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کو مارنا خداکے تخلیقی نقشہ میں مداخلت (intervene)کرنا ہے۔ ایک شخص کو اس نعمت سےمحروم کرنا ہے کہ وہ اپنی عمر پوری کرے اور خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق اس کے لئے جو رول (role) مقدر ہے، اس رول کو وہ اداکرنے سے محروم ہوجائے۔ اس کے برعکس، جب ایک شخص کو زندہ رہنے دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو یہ موقع دیاگیا کہ وہ اپنی پوری عمر زندہ رہے اور خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق دنیا میں اپنا مقرر رول ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قتل اور زندگی دونوں براہِ راست طورپر خالق کا معاملہ بن جاتے ہیں۔
آدمی اگر اس معاملے کی سنگینی کو سمجھے تو وہ کبھی کسی کو قتل کرنے کی جرأت نہ کرے۔وہ انسان کو قتل کرنے سے اسی طرح ڈرے، جس طرح کوئی شخص آگ کے الاؤ کو دیکھتے ہوئے اس میں کودنے سے ڈرتا ہے۔
انسان خدا کی سب سے زیادہ اعلی مخلوق ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے (38:75) ۔اس بات کو اگر دنیوی زبان میں کہا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان اپنے خالق کاسب سے زیادہ نفیس آرٹ (finest art) ہے۔کوئی آرٹسٹ اس کو برداشت نہیں کرسکتا کہ کوئی شخص اس کے آرٹ ورک پر ہتھوڑا چلا کر اس کو توڑ دے۔ خالق کائنات اس سے بے شمار گُنا زیادہ اس کو ناپسند کرے گا کہ اس کے پیدا کیے ہوئے ایک انسان کو کوئی شخص ہلاک کردے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔