قرآن کے مطابق، مومن کی بنیادی صفات دو ہیں— اللہ سے حُبّ شدید (2:165) اور اللہ سے خشیت شدید (9:18)۔ مومن کی دوسری تمام صفات انھیں دو صفتوں کے مختلف پہلو ہیں۔ کوئی انسان جب اللہ رب العالمین کو دریافت کرتا ہے تو اس کے اندر فطری طور پر یہ دو اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ یہ دونوں صفتیں جب گہرائی کے ساتھ زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں تو اس سے وہ شخصیت بنتی ہے جس کو مومن کی شخصیت کہا جاتا ہے۔
ایک انسان جب اللہ کی عظیم نعمتوں (great blessings) کا شعور حاصل کرتا ہے تو اس کے نتیجے کے طور پر اس کے اندر وہ صفت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں اللہ سے حُبّ شدید کہا گیا ہے۔ اسی طرح انسان جب اپنے عجز اور اپنی عبدیت کو شعوری طور پر دریافت کرتا ہے تو اس سے وہ صفت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں خشیت شدید یا خوفِ شدید کہا گیا ہے۔
ایمان کی یہ دونوں صفات دراصل معرفت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ معرفت جتنی اعلیٰ درجے کی ہوگی، اتنی ہی اعلی درجے کی صفات آدمی کے اندر پیدا ہوں گی۔ انسان کے اند رکوئی بھی صفت ایک علاحدہ ضمیمہ کے طور پر پیدا نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ داخلی شعور کا ایک خارجی اظہار ہوتا ہے۔ ہر ایمانی صفت کے پیچھے گہرے معنوں میں تدبر اور تفکر موجود رہتا ہے۔
ایمانی معرفت کوئی قانونی بات نہیں۔ کسی کو قانونی احکام بتانے سے اس کے اندر معرفت پیدا نہیں ہوگی۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی کو پہلے مطالعہ کرنے والااور غور وفکر کرنے والا بنایا جائے۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے بعد کسی انسان کے اندر وہ اعلی صفت پیدا ہوگی جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔
یہی سچے مومن کو پہچاننے کا واحد معیار ہے۔ یہ معیار جس انسان کے اندر پایا جائے، وہی انسان سچا مومن ہے۔ اور جس انسان کے اندر یہ دونوں صفات نہ پائی جائیں، وہ اللہ کے نزدیک سچا مومن نہیں ، خواہ ظاہر پسند انسانوں کو وہ کتنا ہی بڑا آدمی دکھائی دیتا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔