قرآن کی سورہ الرعد میں بتایا گیاہے کہ جو لوگ جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے، ان کے ساتھ خصوصی اعزاز کا معاملہ کیا جائے گا- اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ(13:24) یعنی (فرشتے اہلِ جنت سے کہیں گے کہ) تم لوگوں پر سلامتی ہو اس صبر کے بدلے جوتم نے کیا، پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر-
قرآن کی اس آیت میں سلام سے مراد السلام علیکم کہنا نہیں ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ فر شتے اہلِ جنت کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دیںگے- ان کو اس بات کی خوش خبری دیں گے کہ دنیا میں تمھارے اعمال کو اللہ نے قبول فرمایا اور یہاں تمھارے لئے ابدی جنت کو مقدر کردیا- اب تم بے خوف ہوکر یہاں رہو- یہ نیا دورِ حیات تم کو مبارک ہو-
صبر (patience) کوئی سلبی صفت نہیں ہے- صبر ایک اعلیٰ درجے کی مثبت (positive) صفت ہے- صبر یہ ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ اللہ کے تخلیقی نظام پر پوری طرح راضی ہو- دنیا میں جو کچھ پیش آئے، اس کو اللہ کے تخلیقی نظام کا نتیجہ سمجھے، نہ کہ کسی انسان کا پیدا کیا ہوا مسئلہ-ایسا آدمی دنیا کے مختلف احوال کے درمیان اس طرح رہے گا کہ اس کا ذہن شکایت اور احتجاج سے مکمل طور پر خالی ہوگا، وہ ہر صورتِ حال کو اپنے لئے امتحان کا پرچہ سمجھے گا، وہ ہر صورتِ حال میں کامل اعتدال کو باقی رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے گا-
اسی سلسلۂ کلام میں صبر کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں:اور جنھوں نے اپنے رب کی رضا کے لئے صبر کیا(13:22)- یہاں رضائے رب کسی مبہم معنی میں نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے منصوبۂ خداوندی کو سمجھا، اور کسی تحفظ کے بغیر اس کو تسلیم کرلیا- اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کو چھوڑ کر اللہ کی پسند اور ناپسند کو اصل سمجھا اور اس پر پوری طرح راضی ہوگئے- اسی حقیقت کو دوسرے مقام پر النفس المطمئنة (89:27)سے تعبیر کیا گیا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔