پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں توحید کا مشن شروع کیا۔اس وقت قریش کے لوگ شرک کی حمایت میںاپوزیشن کا رول ادا کرنے لگے۔ اس درمیان مختلف قسم کے واقعات پیش آئے۔ آخر کار ہجرت کے چھٹےسال پیغمبر اسلام نے قریش سےقیامِ امن کی بات چیت شروع کی ۔ اس گفت و شنید میں آپ نے جو کچھ کہا، ان میں سے ایک بات یہ تھی: یا ویح قریش، لقد أکلتہم الحرب، ماذا علیہم لو خلوا بینی وبین سائر الناس (مسند احمد، حدیث نمبر 18910)۔یعنی افسوس ہے قریش پر، ان کو جنگ کھاگئی، ان کا کیا نقصان ہے، اگر وہ میرے اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں۔
اس قول کا پس منظر یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں قبائلی دور تھا۔ اس دور میں قبائل کے درمیان مسلسل لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ اسلام آیا تو قریش کی ضد کی بنا پر دوبارہ لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ عرب کے لوگ اس صورتِ حال سےپریشان تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح عرب میں امن قائم ہوجائے۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورتِ حال کا اندازہ کیا اور گفت و شنید کے بعدفریقِ ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مانتے ہوئے ان سے امن سمجھوتہ کر لیا، جومعاہدۂ حدیبیہ کے نام سے مشہورہے۔ امن قائم ہونے کے بعد رسول اور اصحابِ رسول کو موقع ملا کہ وہ آزادانہ طور پر لوگوں کے درمیان توحید کا مشن جاری کرسکیں۔ پیغمبر اسلام نے ایک طرف عرب کے قبائل کے درمیان وفود بھیجے، دوسری طرف عرب کے باہر جو حکومتیں قائم تھیں، ان کو دعوتی خطوط روانہ کیے۔ یہ ایک پرامن دعوتی جدو جہد تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف چند سال کے اندر اسلام پورے عرب میں پھیل گیا۔
یہی صورتِ حال موجودہ زمانے میں پیدا ہوگئی ہے۔ دنیا کے لوگ جنگوں سے اکتاچکے ہیں۔ وہ امن چاہتے ہیں۔ مسلمان اگر اس موقع کو پہچانیں، اور امن قائم کرکےلوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں تو عین ممکن ہے کہ تاریخ دوبارہ اپنے آپ کو دہرائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔