Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2015
Al-Risala December 2015

قرآن اور انسان

Urdu · 2 min read

آسمان کے نیچے قرآن واحد محفوظ کتاب ہے، جو انسان کے لیے یہ جاننے کا مستند ماخذ (authentic source) ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ وہ اپنے لیے کس طرح ابدی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ قرآن کے نزول کے بعد خالق نے تاریخ میں ایک پراسس جاری کیا، جس کے نتیجے میںپرنٹنگ پریس،کمیو نی کیشن اور دوسری چیزیں وجود میں آئیں، اور یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن دنیا کے ہر انسان تک پہنچے ۔بیسویں صدی کا آغاز اس پراسس کا نقطۂ انتہا (culmination) تھا۔ مگر عین اسی وقت ایک سنگین قسم کی غلط رہنمائی وجود میں آئی، جس نے قرآن اور انسان کے درمیان ایک آڑ (buffer) قائم کردیا۔

یہ غلط رہنمائی قرآن کی سیاسی تعبیر تھی جو عملا متشددانہ تعبیر (violent interpretation) کے ہم معنی بن گئی۔ قرآن کی یہ سیاسی تعبیر عرب اور غیر عرب مسلمانوں میں اتنی زیادہ عام ہوئی کہ تقریبا ہر مسلمان متشددانہ سوچ میں مبتلا ہوگیا۔ کوئی منفعل تشدد (passive violence) کے معنی میں اور کوئی فعال تشدد (active violence) کے معنی میں۔ اب اگرچہ قرآن ہر آدمی کے لیے قابلِ حصول بن گیا ہے لیکن لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن تشدد کی کتاب ہے، اس لیے انھیں قرآن پڑھنے کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔

ان حالات میں سب سے بڑی ضرورت یہ بن گئی ہے کہ قرآن کے متشددانہ تصویر (violent image) کو بدلا جائے۔لوگوں کو بتایا جائے کہ قرآن امن کی کتاب ہے، نہ کہ تشدد کی کتاب ۔ یہ امیج بلڈنگ (image-building) کا مسئلہ ہے۔ آج ضرورت ہے کہ قرآن کی امیج بلڈنگ کے کام کو ترجیحی بنیاد پر انجام دیا جائے۔ جب تک یہ کام نہ ہو گا، لوگ قرآن کو نارمل ذہن کے ساتھ نہیں پڑھیں گے۔ وہ عین اسی کتاب سے بے خبر رہیں گے، جوواحد رہنما کتاب کی حیثیت سے ان کی پہلی ضرورت ہے، جو ان کو وہ مقصدِ حیات بتاتی ہے جس کے بغیر ان کی زندگی نامکمل ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.