قرآن کی سورہ نمبر 2 کے شروع میں یہ آیت آئی ہے:ذَلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیہ ِ ہُدًى لِلْمُتَّقِینَ ِ (2:2)یعنی یہ الکتاب ہے، جس میں کوئی شک نہیں، راہ دکھاتی ہے ڈر رکھنے والوں کو۔ یہاں الکتاب کا لفظ قرآن کے لیے آیا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں الکتاب کا تعلق پچھلی سورہ الفاتحہ کے اس دعائیہ کلمہ سے ہے: اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ (ہم کو صراط مستقیم [straight path]کی ہدایت دے)۔ یہ دعا دراصل انسانی فطرت کی پکار ہے۔ انسانی فطرت اپنی خاموش زبان میں اپنے رب سے کہتی ہے کہ اے رب، ہم کو صراط مستقیم کی ہدایت دے۔ اور رب العالمین اس کے جواب میں اپنے پیغمبر کے ذریعے قرآن اتارتا ہے۔ یہ قرآن وہی کتابِ ہدایت ہے جس کی طلب انسان نے اپنی فطرت کی زبان میں کی تھی۔
قرآن کے بارے میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں ۔ قرآن بلاشبہ ایک نصیحت کی کتاب ہے۔ لیکن قرآن سے نصیحت اس انسان کو ملتی ہے جو اپنے لُب (عقل) کو استعمال کرتے ہوئے قرآن کی آیتوں پر تدبر کرے۔
تدبر کا فائدہ یہ ہے کہ قرآن میں بتائی ہوئی بات انسان کے لیے خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) بن جاتی ہے۔ آدمی کا یہ مزاج ہے کہ وہ کسی بات کو اس وقت پوری طرح اپناتا ہے جب کہ وہ اس کے لیے اپنی دریافت کی ہوئی بات بن جائے۔ یہی فائدہ قرآن میں تدبر سے حاصل ہوتا ہے۔ تدبر سے پہلے کوئی بات دور کی بات ہوتی ہے۔ لیکن تدبر کے بعد وہ بات اپنی بات بن جاتی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔