Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2015
Al-Risala December 2015

ذٰلک الکتاب

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ نمبر 2 کے شروع میں یہ آیت آئی ہے:ذَلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیہ ِ ہُدًى لِلْمُتَّقِینَ ِ (2:2)یعنی یہ الکتاب ہے، جس میں کوئی شک نہیں، راہ دکھاتی ہے ڈر رکھنے والوں کو۔ یہاں الکتاب کا لفظ قرآن کے لیے آیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میں الکتاب کا تعلق پچھلی سورہ الفاتحہ کے اس دعائیہ کلمہ سے ہے: اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ (ہم کو صراط مستقیم [straight path]کی ہدایت دے)۔ یہ دعا دراصل انسانی فطرت کی پکار ہے۔ انسانی فطرت اپنی خاموش زبان میں اپنے رب سے کہتی ہے کہ اے رب، ہم کو صراط مستقیم کی ہدایت دے۔ اور رب العالمین اس کے جواب میں اپنے پیغمبر کے ذریعے قرآن اتارتا ہے۔ یہ قرآن وہی کتابِ ہدایت ہے جس کی طلب انسان نے اپنی فطرت کی زبان میں کی تھی۔

قرآن کے بارے میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں ۔ قرآن بلاشبہ ایک نصیحت کی کتاب ہے۔ لیکن قرآن سے نصیحت اس انسان کو ملتی ہے جو اپنے لُب (عقل) کو استعمال کرتے ہوئے قرآن کی آیتوں پر تدبر کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تدبر کا فائدہ یہ ہے کہ قرآن میں بتائی ہوئی بات انسان کے لیے خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) بن جاتی ہے۔ آدمی کا یہ مزاج ہے کہ وہ کسی بات کو اس وقت پوری طرح اپناتا ہے جب کہ وہ اس کے لیے اپنی دریافت کی ہوئی بات بن جائے۔ یہی فائدہ قرآن میں تدبر سے حاصل ہوتا ہے۔ تدبر سے پہلے کوئی بات دور کی بات ہوتی ہے۔ لیکن تدبر کے بعد وہ بات اپنی بات بن جاتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content