دعوت ایک منصوبہ بندعمل ہے۔ دعوت کا کام عملا ماس لیول (mass level) پر کیا جاتا ہے۔ لیکن دعوت کے کام کا نتیجہ ہمیشہ فرد کی سطح (individual level) پر نکلتا ہے۔ داعی کو چاہیے کہ ان دونوں پہلوؤں کے بارے میں وہ پوری طرح باشعور ہو۔ ورنہ وہ دعوت کا کام درست طور پر انجام نہ دے سکے گا۔
قرآن میں بتا یا گیا ہے کہ جس انسان کے اندر خیر ہوتا ہے، اس کو اللہ کی طرف سے قبولِ حق کی توفیق حاصل ہوتی ہے (8:23)۔ یہاں خیر سے مراد تلاشِ حق کی اسپرٹ ہے۔ تلاشِ حق کی اسپرٹ ایک فرد کا داخلی معاملہ ہے۔ صرف اللہ کو معلوم ہے کہ کس فرد کے اندر یہ خیر موجود ہے۔ داعی کو اس حقیقت کا علم ہونا ممکن نہیں۔ اس لیے داعی کا کام یہ ہے کہ وہ ہر شخص کو اپنا نشانہ بنائے۔ وہ عمومی طور پر لوگوں کو حق کا پیغام پہنچائے۔ اللہ جس فرد کے اندر خیر دیکھے گا اس کو وہ قبولِ حق کی توفیق دے دے گا۔ دعوت دینا داعی کا معاملہ ہے، اور دعوت کو قبول کرنے کی توفیق دینا اللہ کا معاملہ ہے۔
اگر آدمی کا ذہن یہ ہو کہ جتنے لوگوں تک اس نے دعوت پہنچائی ہے ان سب کو چاہیے کہ وہ دعوت کو قبول کرلیں تو بہت جلد وہ مایوسی میں مبتلا ہوجائے گا۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر نظر رکھے، اور دعوت کو قبول کرنے کا معاملہ مدعو کے اوپر چھوڑ دے۔ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے یقین کی صفت لازمی طور پر ضروری ہے۔ اور یقین کی صفت اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے، جب کہ داعی مذکورہ حقیقت کو شعوری طور پر جانے اور اس کو وہ ہمیشہ یاد رکھے۔ دعوت کا کام اللہ کا کام ہے، اور اللہ پر اعتماد کی طاقت کے ذریعے ہی اس کو انجام دیا جاسکتا ہے۔دعوت کے عمل کی لازمی شرط یہ ہے کہ داعی کے اندر مکمل طور پر مثبت ذہن پایا جائے۔مدعو کے خلاف اس کے دل میں کسی قسم کی شکایت موجود نہ ہو۔ دعوت کا کام ہمیشہ انسانی خیر خواہی کے جذبے کے تحت انجام پاتا ہے۔ اور انسانی خیرخواہی اللہ پر اعتماد کے بغیر پیدا ہونا ممکن نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔