وقت کسی انسان کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے- وقت ہر انسان کو ملتا ہے، لیکن وقت کو پانے والا وہ ہے جس نے ملے ہوئے وقت کو استعمال کیا- کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ— کھویا ہوا مال دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن کھویا ہوا وقت دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہیں- اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے وقت کو نہایت ہوشمندی کے ساتھ استعمال کرے:
Money lost can be earned again, but lost time is lost forever. So use your time judiciously.
جس طرح یہ بات غلط ہے کہ آدمی اپنے وقت کو ضائع کردے، اسی طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ آدمی اپنے وقت کو بے فائدہ کاموں میں استعمال کرے- صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے وقت کو ایسے کام کے لئے استعمال کرے جو اس کو فائدہ پہنچانے والا ہو- وقت ایک خارجی چیز ہے- وقت کا تعین کلنڈر کے ساتھ ہوتا ہے- لیکن وقت کا درست استعمال ایک داخلی صفت ہے-
آدمی داخلی طورپر جتنا زیادہ تیار ہو اتنا ہی زیادہ وہ وقت کا مفید استعمال کرسکتا ہے-وقت کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ وقت ایک محدود لمحے کا نام ہے- محدود لمحے کے لیے آپ کو وقت حاصل ہوتا ہے- محدود لمحے کے ختم ہونے کے بعد وقت کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے- اِس حقیقت کو ایک اردو شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
وقت کے معاملہ میں انسان کو یہ کرناہے کہ وہ وقت کے صحیح استعمال اور وقت کے غلط استعمال کے درمیان فرق کرے- وہ وقت کے غلط استعمال سے اُسی طرح بچے، جس طرح کوئی شخص حرام چیز سے بچتا ہے- وقت کے غلط استعمال کے بارے میں شدید حساسیت ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو اِس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے وقت کو بھر پور طور پر استعمال کرے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔