شکایت (complaint) نہایت مہلک چیز ہے- تمام اجتماعی خرابیاں ہمیشہ شکایت کی بنا پر پیدا ہوتی ہیں- جب دویا زیادہ آدمی ایک ساتھ رہیں، تو اُن کے درمیان لازماً ایسے اختلاف پیدا ہوتے ہیں، جو شکایت بن جاتے ہیں- پھر یہ شکایت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے دور ہوجاتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کو برا سمجھنے لگتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں- یہ حالت اگر دیر تک باقی رہے، تو دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان ایسی نفرت پیدا ہوجاتی ہے جو پھر کبھی ختم نہیں ہوتی-
شکایت کا واحد حل یہ ہے کہ اُس کو سنجیدگی کے ساتھ نہ لیاجائے، بلکہ اُس کو بھلادیا جائے- شکایت پیدا ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ نہ تو اُس کی تحقیق کرے اور نہ اس کو یاد رکھے، بلکہ یک طرفہ طورپر اُس کو بھلا دے- اجتماعی زندگی میں شکایت کا پیدا ہونا فطری ہے- لیکن شکایت کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ اس کی پوچھ گچھ کی جائے، اور اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے- موجودہ دنیا میں شکایت کا خاتمہ ممکن نہیں- یہاں عملاً صرف یہ ہوسکتا ہے کہ شکایت کو یاد نہ رکھا جائے، اُس کا چرچا نہ کیا جائے، اُس کو تعلقات کی بنیاد نہ بنایا جائے، شکایت کے مسئلے کا یہی واحد حل ہے- عملی اعتبار سے شکایت کے مسئلے کا دوسرا کوئی حل نہیں- جو آدمی چاہتا ہو کہ وہ مثبت ذہن کے ساتھ اِس دنیا میں رہے، اور مثبت ذہن کے ساتھ اِس دنیا سے چلا جائے، اُس کے لیے اِس کے سوا کوئی اور صورت عملاً ممکن نہیں-
شکایت کا معاملہ ہمیشہ ایک پیچیدہ معاملہ ہوتاہے- اِس لئے شکایت کا عملی حل (practical solution) صرف یہ ہے کہ شکایت کو بحث کا موضوع نہ بنایا جائےبلکہ اس کو ایک ایسی چیز سمجھا جائے، جس کا حل اُس کو بھلا دینا ہے، نہ کہ یہ دیکھنا کہ وہ صحیح ہے یا غلط-تجربہ بتاتا ہے کہ پوچھ گچھ سے شکایت ختم نہیں ہوتی، بلکہ اکثر زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے- ایسی حالت میںشکایت کا عملی حل یہی ہے کہ اس کو بھلا دیا جائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.