Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2014
Al-Risala December 2014

دعوتی اسپرٹ

Urdu · 2 min read

بیگم اختر (وفات: 1974) انڈیا کی ایک مشہور مغنیہ (singer) تھیں- ان کو اپنے پروفیشن سے عشق کے درجہ کا تعلق تھا- انھوں نے ایک بار اپنے ایک شاگرد سے کہا کہ— ایک بھی اگر کہیں سننے والا ہے تو اس کو ڈھونڈو اور جاکر اس کو سناؤ-

یہ ایک آرٹسٹ کی اسپرٹ ہے- یہی وہ اسپرٹ ہے جو ایک آرٹسٹ کو ایک بڑا آرٹسٹ بناتی ہے- جس آرٹسٹ کے اندر یہ اسپرٹ نہ ہو وہ کبھی بڑا آرٹسٹ نہیں بن سکتا-

دین کا داعی بھی گویا ایک ڈوائن آرٹسٹ ہوتا ہے- سچا داعی وہ ہے جس کے اندر یہ اسپرٹ اعلی درجہ میں موجود ہو- اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی نظر کمّیت (quantity) پر نہیں بلکہ کیفیت (quality) پر ہونی چاہئے-

داعی کے اندر اگر یہ اسپرٹ ہے، تو وہ کبھی مایوس نہیں ہوگا- وہ ہمیشہ پرامید (hopeful) رہے گا- اگر اُس کو ایک انسان ایسا مل جائے، جو متلاشی (seeker) ہو- تو وہ اُس ایک انسان کو اتنا زیادہ اہمیت دے گا، جیسے کہ وہی اس کے لئے ساری انسانیت ہے- سچا داعی وہ ہے جو ایک انسان کو بھی سارے انسانوں کے برابر سمجھے- جو ایک انسان پر بھی اتنا زیادہ محنت کرے، جتنا کوئی شخص ساری دنیا کے انسانوں پر محنت کرے گا-

سچے داعی کی نظر اپنی ذمہ داری پر ہوتی ہے- وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اُس کے سامنے انسانوں کی ایک بھیڑ ہے، یا صرف ایک انسان ہے- وہ یہ نہیں سوچتا کہ اُس کو اپنے دعوتی عمل کا کوئی اجر ملے گا یا نہیں- وہ یہ نہیں سوچتا کہ لوگ اُس کی بات مانیں گے یا نہیں مانیں گے- سچا داعی صرف اللہ کے لئے کام کرتا ہے نہ کہ دنیا کے وقتی فائدوں کے لئے- ایسا ہی داعی، سچا داعی ہے- اور یہی وہ داعی ہے جس کو آخرت کی ابدی جنت میں داخلہ ملے گا-اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے کہ جس نے ایک شخص کو زندگی دی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی دے دی (المائدة: 32)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content