بیگم اختر (وفات: 1974) انڈیا کی ایک مشہور مغنیہ (singer) تھیں- ان کو اپنے پروفیشن سے عشق کے درجہ کا تعلق تھا- انھوں نے ایک بار اپنے ایک شاگرد سے کہا کہ— ایک بھی اگر کہیں سننے والا ہے تو اس کو ڈھونڈو اور جاکر اس کو سناؤ-
یہ ایک آرٹسٹ کی اسپرٹ ہے- یہی وہ اسپرٹ ہے جو ایک آرٹسٹ کو ایک بڑا آرٹسٹ بناتی ہے- جس آرٹسٹ کے اندر یہ اسپرٹ نہ ہو وہ کبھی بڑا آرٹسٹ نہیں بن سکتا-
دین کا داعی بھی گویا ایک ڈوائن آرٹسٹ ہوتا ہے- سچا داعی وہ ہے جس کے اندر یہ اسپرٹ اعلی درجہ میں موجود ہو- اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی نظر کمّیت (quantity) پر نہیں بلکہ کیفیت (quality) پر ہونی چاہئے-
داعی کے اندر اگر یہ اسپرٹ ہے، تو وہ کبھی مایوس نہیں ہوگا- وہ ہمیشہ پرامید (hopeful) رہے گا- اگر اُس کو ایک انسان ایسا مل جائے، جو متلاشی (seeker) ہو- تو وہ اُس ایک انسان کو اتنا زیادہ اہمیت دے گا، جیسے کہ وہی اس کے لئے ساری انسانیت ہے- سچا داعی وہ ہے جو ایک انسان کو بھی سارے انسانوں کے برابر سمجھے- جو ایک انسان پر بھی اتنا زیادہ محنت کرے، جتنا کوئی شخص ساری دنیا کے انسانوں پر محنت کرے گا-
سچے داعی کی نظر اپنی ذمہ داری پر ہوتی ہے- وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اُس کے سامنے انسانوں کی ایک بھیڑ ہے، یا صرف ایک انسان ہے- وہ یہ نہیں سوچتا کہ اُس کو اپنے دعوتی عمل کا کوئی اجر ملے گا یا نہیں- وہ یہ نہیں سوچتا کہ لوگ اُس کی بات مانیں گے یا نہیں مانیں گے- سچا داعی صرف اللہ کے لئے کام کرتا ہے نہ کہ دنیا کے وقتی فائدوں کے لئے- ایسا ہی داعی، سچا داعی ہے- اور یہی وہ داعی ہے جس کو آخرت کی ابدی جنت میں داخلہ ملے گا-اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے کہ جس نے ایک شخص کو زندگی دی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی دے دی (المائدة: 32)-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔