’’میرے خاندان کے ایک بزرگ تھے، حافظ محمد اسماعیل، جو بڑے عالم اور محدث تھے- مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے والد تھے اور رشتے میں میرے والد کے چچاتھے- انھوں نے اپنی زندگی میں کسی انگریز کی شکل نہیں دیکھی، انگریزی کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا- اور اپنے گھر میں کسی کو انگریزی کا لفظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی- ہندستان میں پہلے شاید ٹماٹر نہیں ہوتا تھا، بعد میں جب یہاں ٹماٹر آیا تو یہ لفظ شاید انگریزی کے لفظ tomato کی اردو شکل تھی- حافظ اسماعیل صاحب ٹماٹر کا لفظ استعمال نہیں کرتے تھے اور اگر کوئی بولتا تھا تو اس پر ناخوشی کا اظہار کرتے تھے- انھوں نے اس کا نام لال بیگن رکھا ہوا تھا- میرے والد صاحب بتاتے تھے کہ ایک دن گھر میں انھوں نے پوچھا کہ سالن میں کیا ڈالا ہے؟ ان سے کہا گیا کہ ٹماٹر ڈالا گیا ہے تو وہ سخت ناراض ہوئے کہ نصرانیت میرے گھر میں گھس آئی؟ اس کو لال بینگن کیوں نہیں کہتے‘‘؟ (روایت ڈاکٹر محمود احمد غازی، ماہ نامہ ’الشریعہ‘، مارچ 2005، صفحہ 9)
نو آبادیاتی دور میں یہ منفی سوچ مسلمانوں میں عام تھی- میرے برادرِ بزرگ مولانا اقبال احمد خاں سہیل نے اپنے ایک مضمون میں انگریزوں کی برائی بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ — اُن کی زبان میں لالہ، پاپی(poppy)بن جاتا ہے اور الہ آباد، آل بَیڈ(all bad) بن جاتا ہے، وغیرہ-
انگریز یا مغرب کے خلاف اِس نفرت کا نقصان دوسروں کو تو کچھ نہیں پہنچا، لیکن خود مسلمانوں کو اپنی اِس منفی سوچ کی بنا پر بھاری قیمت دینی پڑی-اِس نقصان کے دو خاص پہلو تھے— ایک یہ کہ مسلمان جدید تعلیم اور جدید ٹکنالوجی کو اختیار نہ کرنے کی بنا پر زندگی کی دوڑ میں دوسری قوموں سے پچھڑ گئے- دوسرا اِس سے زیادہ بڑا نقصان یہ تھا کہ جو لوگ ان کے مدعو تھے، اُن کو انھوں نے اپنا دشمن سمجھ لیا- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اندر یہ جذبہ آخری حد تک ختم ہوگیاکہ وہ غیر مسلموں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔