Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2014
Al-Risala December 2014

زندگی المیہ کیوں

Urdu · 2 min read

شیلے (P. B. Shelley) ایک انگریز شاعر تھا- اس کی وفات 1822 میں ہوئی- وہ پُردرد شاعری کے لیے مشہور ہے- اس کا ایک شعر یہ ہے— ہمارے سب سے زیادہ شیریں نغمے وہ ہیں جو سب سے زیادہ غم ناک خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں:

Our sweetest songs are those that tell of saddest thought

ایسا کیوں ہے؟ اِس کا سبب یہ ہے کہ بیشتر لوگ اِس احساس میں جیتے ہیں کہ زندگی اُن کے لیے ایک المناک تجربہ تھی- وہ جو کچھ پانا چاہتے تھے، اُس کو وہ نہ پاسکے- وہ اپنے آپ کو شعوری یا غیرشعوری طورپر ایک ناکام انسان سمجھتے ہیں- اس صورت حال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ کوئی درناک نغمہ سنتے ہیں، یا کوئی درد ناک کہانی پڑھتے ہیں، تو وہ اپنی محروم نفسیات کی بنا پر اُس کو اپنے دل کی آواز سمجھتے ہیں- ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ حقیقت واقعہ کا بیان ہے- اِس کے برعکس جب وہ بظاہر کوئی پرمسرت نغمہ سنتے ہیں یا پرمسرت کہانی پڑھتے ہیں تو وہ اس کو اپنے احساس کی بنا پر شعوری یا غیرشعوری طورپر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ ایک غیر واقعی بات ہے-لوگوں کی اِس نفسیات کا سبب کیا ہے؟ اُس کا سبب یہ ہے کہ لوگ خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کو سمجھے بغیر، اپنی زندگی کا منصوبہ بناتے ہیں- وہ اپنے لئے ایک ایسی چیز پانا چاہتے ہیں جس کا حصول خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اِس دنیا میں ممکن نہیں- یہی تضاد، مذکورہ صورتِ حال کا اصل سبب ہے-

خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، موجود دنیا میں انسان اپنے لیے صرف بقدر ضرورت پاسکتا ہے، اِس سے زیادہ نہیں- ایسی حالت میںانسان اگر بقدر ضرورت پر قناعت کرے، تو وہ مذکورہ نفسیات سے بچ سکتا ہے- خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کو چاہئے کہ وہ موجودہ دنیا میں صرف بقدر ضرورت چاہے، اور اس سے زیادہ کو آخرت کی چیز سمجھے— یہی موجودہ دنیا میں پرسکون زندگی کا واحد راز ہے- فطری زندگی کا نام پر مسرت زندگی ہے اور غیر فطری زندگی کا نام مسرت سے خالی زندگی-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.