Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala December 2014
Al-Risala December 2014

دینی نہیں بلکہ قومی

Urdu · 5 min read

قرآن کی سورہ نمبر 3 میں تاریخ کے ایک معاملہ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ ۭ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ۚ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ (آل عمران: 140) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو قوم کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے- اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت کا مرکزی نقطہ (central point) بین الناس کے لفظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے- یہاں بین الناس سے مراد بین الأقوام ہے- یعنی اِس آیت میں، لوگوں کے ساتھ پیش آنے والے، اُس واقعے کا ذکر ہے جو اُن کے درمیان قومی بنیاد پر پیش آتے ہیں- یعنی قانون فطرت کے مطابق، اِس دنیا کا نظام مسابقت (competition) کے اصول پر قائم ہے- مذکورہ آیت میں، زمانۂ رسول کے دو واقعے کا ذکر ہے— بدر اور احد- بدر کے واقعہ میں مشرک قوم کو نقصان اٹھانا پڑا تھا، اُحد کے واقعہ میں موحد قوم کو نقصان اٹھانا پڑا- اِس طرح کے واقعات فطرت کے قانون کے مطابق، ہمیشہ ہر قوم کے ساتھ پیش آتے ہیں- لوگوں کو چاہئے کہ وہ ایسے واقعے کو صحیح تناظر (right perspective) میں دیکھیں- اِس سے وہ اپنے آپ کو منفی سوچ سے بچا سکیں گے-

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ جو واقعات پیش آئے، اُن کو بھی اِسی قانون فطرت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے- اِس طرح مسلمانوں کے اندر حقیقت پسندانہ مزاج (realistic approach) پیدا ہوگا- وہ اپنے آپ کو اِس سے بچا سکیں گے کہ اِن واقعات کو لے کر اُن کے اندر منفی سوچ پیدا ہوجائے، اور پھر وہ اپنے عمل کی مثبت منصوبہ بندی (positive planning) کرنے میں ناکام ہوجائیں-

مثلاً انیسویں صدی میں مسلمانوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ مغرب کی نوآبادیاتی قومیں ایشیا اور افریقہ میں پھیل گئیں، اور انھوںنے مسلمانوں کے قومی دبدبہ کو ختم کردیا- اِس پر تمام دنیا کے مسلمان مغربی قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے- اگر اِس معاملہ کو وہ قرآنی معیار سے دیکھتے تو وہ کہتے کہ اِس سے پہلے مسلم قوموں نے دوسری قوموں کے اوپر اپنا دبدبہ قائم کیا تھا- اب تاریخ کے قانون کے مطابق، دوسری قوموں کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ مسلمانوں کے اوپر اپنا دبدبہ قائم کریں- مسلمان اگر اس طرح سوچتے تو وہ نئے حالات کے مطابق، اپنے عمل کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کرتے- لیکن مسلمان اِس تاریخی قانون سے بے خبر رہے- نتیجہ یہ ہوا کہ پوری مسلم دنیا مغربی قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو کررہ گئی-

1948میں یہ واقعہ پیش آیا کہ یہود نے نئے حالات سے فائدہ اٹھایا اور فلسطین کے نصف حصے پر اپنی حکومت قائم کرلی- جس پر مسلمان مشتعل ہوگئے-وہ اسرائیل کے خلاف بے نتیجہ قسم کی منفی کارروائیوں میں مشغول ہوگئے، حالاں کہ اگر وہ سوچتے کہ اِس سے پہلے، سیکڑوں سال تک مسلم قوم نے فلسطین پر اپنی حکومت قائم کررکھی تھی- اب اگر یہود قوم کو موقع ملا ہے تو وہ قوموں کے بارے میں تاریخی قانون کی بنا پر پیش آیا ہے-

مسلمان اگر اِس طرح سوچتے تو اُن کے اندر حقیقت پسندانہ فکر پیدا ہوتی- وہ نئے حالات کے لحاظ سے اپنے عمل کا نتیجہ خیز منصوبہ بناتے، لیکن عملا یہ ہوا کہ انھوں نے منفی کارروائیوں میں مبتلا ہو کر صرف اپنے نقصان میں مزید اضافہ کرلیا-

اِسی طرح ہندوستان میں یہ واقعہ پیش آیا کہ 6 دسمبر 1992 کو ہندؤوں کا ایک مشتعل گروہ اجودھیا میں داخل ہو ا، اور بابری مسجد کی عمارت کو ڈھا دیا- اس وقت مسلمان اگر یہ سوچتے کہ اس سے پہلے 1001ء میں مسلم سلطان نے سومناتھ میں ہندوؤں کے مندر کو ڈھا دیا تھا، اُس کے بعد انتقامی طورپر اجودھیا کا واقعہ پیش آیا- مسلمان اگر اِس طرح سوچتے تو اُن کے اندر مثبت طرز فکر پیدا ہوتا، وہ حقیقت پسندانہ اور نتیجہ خیز (result oriented) انداز میں اپنے عمل کا منصوبہ بناتے، اور پھر یقینی طورپر کامیاب رہتے، لیکن انھوںنے اپنے ناعاقبت اندیش لیڈروں کی رہنمائی میں بے فائدہ قسم کی منفی کارروائیاں شروع کردیں- اُن کا یہ طریقہ فطری طورپر کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوا- مسلمانوں کے حصے میں مزید نقصان کے سوا کچھ اور نہ آیا-

حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان مذکورہ قسم کے جو واقعات پیش آتے ہیں- وہ ہمیشہ قومی بنیاد پر ہوتے ہیں- اُن کا دین اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے- اسی طرح یہ عقیدہ بنانا غلط ہے کہ فلاں قوم ہماری دشمن قوم ہے، وہ ہمارے خلاف سازشیں کرتی ہیں- اِس لئے اس قسم کے واقعات پیش آرہے ہیں- اِس قسم کے تمام خیالات تاریخ کے بارے میں فطرت کے قوانین سے بے خبری کا نتیجہ ہیں- یہ واقعات قوموں کے درمیان مسابقت کی بنا پر پیش آتے ہیں، نہ کہ سازش اور عداوت کی بنا پر-

اِس طرح کے واقعات کو اگر حقیقت پسندانہ ذہن سے دیکھا جائے تو لوگوں کے اندر مثبت طرز فکر (positive thinking) پیدا ہوگی- اور بلا شبہہ وہ اِس قابل ہوجائیں گے کہ ہر ناکامی کے بعد اپنے لئے نتیجہ خیز منصوبہ بنائیں، اور ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کامیابی حاصل کرلیں- اِس کے برعکس، اگر تاریخ کے واقعات کو خود ساختہ ذہن کے ساتھ دیکھا جائے تو لوگوں کے اندر منفی طرز فکر (negative thinking)پیدا ہوگی- وہ رد عمل (reaction) کی نفسیات کا شکار ہوجائیں گے، اور غیر حقیقت پسندانہ عمل میں مبتلا ہو کر ایسی کارروائی کریں گے جو باعتبار نتیجہ صرف ان کے نقصان میں اضافہ کرنے والی ہو-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content