قرآن کی سورہ نمبر 102 میں انسان کے لئے ایک نہایت نصیحت کی بات کہی گئی ہے- وہ یہ کہ انسان ساری کوشش کرکے دولت کا ڈھیر اکٹھا کرتا ہے مگر آخر میں اس کے اپنے حصہ میں جوچیز آتی ہے وہ صرف قبر کا گڑھا ہے (سورہ التکاثر)- یہ تبصرہ انسان کی پوری تاریخ پر درست ثابت ہوتا ہے- اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کا یہ حال ہے کہ وہ بظاہر بہت زیادہ حاصل کرتا ہے، لیکن عملاً اس کے اپنے حصہ میں بہت تھوڑا آتا ہے-
اس معاملہ کی ایک عبرت انگیز مثال یہ ہے کہ امریکا کے مشہور دولت مند بل گیٹس (Bill Gates) نے اتنا زیادہ کمایا کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ دولت مند انسان بن گئے، لیکن آخر میں ان کو محسوس ہوا کہ یہ ساری دولت صرف ایک خارجی ڈھیر ہے- اُن کے اپنے لئے ایک ’’سینڈوچ‘‘ کے سوا اور کچھ نہیں- انھوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا:
I can understande wanting to have a million dollars... but once you get beyond that, I have to tell you, it’s the same hamburger.
ایک شخص کتنا ہی بڑا محل بنائے، اس کے اپنے حصہ میں محل کا صرف ایک کمرہ آتا ہے- کوئی بادشاہ کتنی ہی بڑی سلطنت قائم کرے اس کے بیٹھنے کے لئے صرف ایک تخت ہوتا ہے- کوئی شخص عالمی شہرت کا مالک بن جائے لیکن عملاً اس کے رہنے کے لئے ایک چھوٹی سی دنیا ہوتی ہے، وغیرہ- ایسی حالت میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ آدمی جنت کو اپنی منزل بنائے نہ کہ دنیا کی کسی چیز کو-
دنیا کے اعتبار سے دیکھا جائے تو انسان کا آخری مقام صرف قبر نظر آتا ہے، لیکن آخرت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو انسان کے لئے کامیابی کی ایک ایسی دنیا کھلی ہوئی ہے، جس کی کوئی حد نہیں- عقل مند وہ ہے جو دنیا سے بقدر ضرورت لے، اور اپنے حوصلوں اور تمناؤں کا نشانہ آخرت کو بنائے- یہی کسی انسان کے لئے حقیقت پسندی بھی ہے اور دانش مندی بھی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔