آخرت کی نجات کے لیے کیا شرائط ہیں۔ اس کی دو شرطیں ہیں۔ ایک شرط وہ ہے جو مومن ہونے کی حیثیت سے آپ سے مطلوب ہے۔ دوسری شرط وہ ہے جو خاتم النبیین کا امتی ہونے کی حیثیت سے آپ کے اوپر عائد ہوتی ہے۔پہلی شرط کا خلاصہ اس دعا میں ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: نرجو رحمتک ونخشی عذابک(کنز العمال: 21948) یعنی ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نجات اس کے لیے ہے جو درجۂ رجاء میں خدا کی رحمت کا حریص ہو، اور درجۂ خشیت میں خدا کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہو۔
ایک شخص اگر اپنے بیٹے کے لیے بہتر مستقبل کا حریص ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ صرف زبان سے اس مفہوم کا جملہ بولتاہے۔ اس کے لیے کچھ ظاہری کارروائی کردیتا ہے۔ بلکہ جو شخص فی الواقع اپنے بیٹے کے لیے بہتر مستقبل چاہتا ہو وہ اس کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا نشانہ بنالے گا، وہ رات اور دن اسی کے لیے سوچے گا، وہ اپنے وقت اور اپنے مال اور اپنے تمام اثاثے کا بہترین استعمال یہ سمجھے گا کہ ان کو بیٹے کے مستقبل کی تعمیر میں لگا دے۔
اسی طرح جو شخص حقیقی معنوں میں خدا کی رحمت کا اور اس کی جنت کا حریص بن جائے، وہ اس کو کافی نہیں سمجھ سکتا کہ مخصوص اوقات میں اس مفہوم کے الفاظ اپنی زبان سے دہرادے۔ یا وقتی طورپر کچھ رسمی اعمال ادا کردیا کرے۔ اس کے برعکس، اس کا معاملہ یہ ہوگا کہ خدا کی رحمت اور جنت کا حریص بننا اس کی پوری شخصیت کے اوپر چھا جائے گا۔ اس کی سوچ اور اس کے جذبات اسی رخ پر چلنے لگیں گے۔ وہ اپنے تمام اثاثے کو اس کام کے لیے وقف کردے گا کہ وہ ان کے ذریعہ سے اپنے لئے جنت کے حصول کو یقینی بنا سکے۔
اس سلسلے میں دوسری شرط وہ ہے جو خاتم النبیین کا امتی ہونے کی حیثیت سے مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوگئی، مگر اسی کے ساتھ دوسری سنگین حقیقت یہ ہے کہ کارِ نبوت کی ذمے داری بدستور باقی ہے، اور یہ کام بعد کی نسلوں کے اوپر، آپ کے امتیوں کو اُسی طرح کرنا ہے جس طرح پیغمبر آخر الزماں نے اپنی ہم عصر نسل کے اوپر کیا تھا۔
اسی عمل کا نام دعوت الی اللہ ہے۔ مسلمان کے اوپر لازم ہے کہ وہ اس دعوتی کام کو اس کے تمام تقاضوں کے ساتھ انجام دے، ورنہ سخت اندیشہ ہے کہ وہ قیامت میں خدا کی پکڑ کی زد میں آجائے۔
مسلمان ہونا کوئی فخر کی بات نہیں، بلکہ وہ ذمہ داری کی بات ہے- جو شخص مسلمان ہونے کی ذمے داری کو اداکرے، وہی مسلمان ہے، اور جو شخص مسلمان ہونے کی ذمے داری کو ادا نہ کرے، اس کے لئے سخت اندیشہ ہے کہ وہ اللہ کے یہاں ایک ناقابلِ قبول انسان ٹھہرے، وہ اللہ کے یہاں مومن ومسلم کی حیثیت سے قبول نہ کیا جائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔