اگر آپ کے پاس ریڈیو سیٹ تو ہو، لیکن ریڈیو اسٹیشن سے جس فریکونسی (frequency) پر پیغام نشر ہورہا ہے، آپ کا ریڈیوسیٹ اس فریکونسی (frequency) پر کام نہ کرتا ہو تو آپ کے لئے وہ سیٹ بے کارہے- جب تک آپ اپنے ریڈیو سیٹ کو مطلوبہ فریکونسی (frequency)پر نہیں لائیں گے، آپ ریڈیو اسٹیشن کی نشریات سے استفادہ نہیں کرسکتے- (ماہ نامہ الشریعہ، پاکستان، مارچ 2005)
یہی معاملہ ربانی نشریات کا ہے- اس دنیا میں ہر لمحہ ربانی پیغام نشر ہورہا ہے، ہر لمحہ یہ خاموش آواز آرہی ہے کہ کیا کوئی سننے والا ہے جو سنے، کیا کوئی نصیحت لینے والا ہے جو نصیحت لے- اگر آپ کا ذہن پہلے سے ان ربانی نشریات کو اخذ کرنے کے لیے تیار ہو تو آپ کا ذہن ان ربانی نشریات کو قبول کرے گا، اور اگر آپ کا ذہن تیار نہ ہو تو ربانی نشریات آئیں گی، اور آپ کے پاس سے گزر جائیں گی، لیکن آپ اس کو اخذ کرنے سے محروم رہیں گے-
اِس دنیا میں ہر آدمی کو اپنے آپ کو شعوری طورپر تیار کرنا ہے- ہر آدمی کو ربانی نشریات کے لیے آخذ(recipient) بننا ہے- دنیا میں روحانی ترقی کا یہی واحد ذریعہ ہے- اِسی سے انسان کے اندر وہ شخصیت بنتی ہے، جس کو مزکیّٰ شخصیت (purified personality) کہاگیا ہے- جس آدمی کے اندر ربانی نشریات کو اخذ کرنے کا یہ مادہ نہ ہو، وہ کبھی روحانی اعتبار سے ترقی نہیں کرسکتا-
قرآن میںاس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَلَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْہِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَہُمْ (الانفال: 23) اور اگر اللہ ان میں خیر کو جانتا تو وہ ضرور ان کو سناتا -یہاں جوبات متعدی کے صیغے (transitive form)میں کہی گئی ہے، وہ لازم کے صیغے (intransitive form)میں مطلوب ہے، یعنی اگر ان کے اندر صلاحیت ہوتی تو وہ ضرور ہدایت کو پالیتے- گویا کہ یہ مسئلہ فقدانِ صلاحیت کا ہے، نہ کہ فقدانِ ہدایت کا-(20 جون 2014)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.