تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق، خدا کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ خود واقعات کو ظہور میں لائے۔ خدا انسان کے لیے موقع (opportunity)فراہم کرتاہے۔ یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ اِس موقع کو استعمال کرکے واقعے کو ظہور میں لائے۔ مثلاً خدا اپنے نظام کے تحت بارش برساتا ہے، وہ براہِ راست طورپر فصل نہیں اگاتا۔ یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ بارش سے پیدا شدہ موقع کو استعمال کرے اور زمین پر فصل اگائے-یہی معاملہ دعوت الی اللہ کا ہے۔ دعوت اہلِ ایمان پر فرض ہے، مگر ایسا نہیں ہوگا کہ اللہ اپنے فرشتوں کو زمین پر بھیجے اور فرشتے براہِ راست طورپر دعوت کا کام انجام دیں۔ یہ اہلِ ایمان کی اپنی ذمے داری ہے کہ وہ مواقع (opportunity) کو پہچانیں اور ان کو استعمال کریں-مثال کے طورپر دعوت الی اللہ کا کام قدیم زمانے میں صرف مقامی طورپر ہوسکتا تھا، کیوں کہ اُس وقت عالمی ذرائع موجود نہ تھے، مگر موجودہ زمانے میں عالمی مواصلات (global communication) کے ذرائع وجود میں آگئے ہیں۔ یہ تبدیلی اِس بات کا اشارہ ہے کہ قدیم زمانے میں دعوت اگر مقامی اعتبار سے فرض ہوتی تھی تو اب دعوت اہلِ ایمان کے لئے ایک عالمی فریضہ بن چکی ہے-
قدیم زمانے میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا موجود نہیں تھا۔ عالمی جغرافیہ کا علم بھی لوگوں کو نہ تھا۔ آمد ورفت کے ذرائع بھی نہایت محدود تھے۔ اِن اسباب کی بنا پر قدیم زمانے میں مقامی دعوت سے بھی دعوت کا فریضہ ادا ہوجاتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں یہ چیز لازمی فریضہ بن چکی ہے کہ اہلِ ایمان جدید عالمی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے حق کی دعوت کو عالمی سطح پر پہنچائیں۔ مزید یہ کہ دعوت صرف اعلان (announcement)کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے حکمت اور خیرخواہی کے تقاضوں کی رعایت بھی ضروری ہے۔ اِس لیے موجودہ زمانے میں اہلِ ایمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ دونوں کام انجام دیں— اہلِ عالم تک اللہ کے پیغام کو پہنچانا اور اہلِ عالم کے لیے کامل طورپر خیر خواہ بننا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.