انسان کی یہ ایک عام کمزوری ہے کہ وہ ملےہوئے کو اپنے خانہ میں ڈال لیتا ہے اور نہ ملے ہوئے کو دوسرے کے خانہ میں- اس کا مہلک نتیجہ (disastrous result) یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں بیجا فخر (false pride)میں مبتلا ہوجاتاہے اور دوسرے کے بارے میں بیجا شکایت (false complaint) میں-اس کے بجائے یہ ہونا چاہئے کہ آدمی ملی ہوئی چیز کو عطیۂ الہی (divine gift) سمجھے اور نہ ملی ہوئی چیز کو اپنی کوتاہی کے خانہ میں ڈال دے- یہ دونوںعادتیں انسانی شخصیت کی تعمیر میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں- ایک عادت سے انسان کے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے، اور دوسری عادت سے، اس کے اندر منفی شخصیت بنتی ہے، اور اِس دنیا میں منفی شخصیت سے بری کوئی چیز نہیں-
اِس مسئلہ کا حل یہ ہےکہ آدمی مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعہ اپنی معرفت کو بڑھائے-وہ اپنے آپ کو حقیقت شناسی کی وسعت تک پہنچائے- اس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللہم أرنا الأشیاء کما ہی (خدایا، مجھ کو اس قابل بنا کہ میں چیزوں کو ویسا ہی دیکھوں، جیسا کہ وہ ہیں)
آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ وہ چیزوں کو ایز اٹ از (as it is) نہیں دیکھ پاتا- وہ اپنے بارے میں ضرورت سے زیادہ اندازہ (overestimation) کرتاہے- اور دوسروں کے بارے میں ضرورت سے کم اندازہ (underestimation) میں مبتلا رہتا ہے- یہ غیر حقیقت پسندانہ مزاج نہایت مہلک ہے- جو لوگ اِس غیر حقیقت پسندانہ مزاج کا شکار ہوں، اُن کے لیے یہ اندیشہ ہے کہ وہ دنیا میں ناکام ہوجائیں، اور آخرت میں بھی ناکام-
صحیح یہ ہے کہ آدمی کے اندر اپنے بارے میں تواضع (modesty) کا مزاج ہو- یعنی اپنے آپ کو کم سمجھے، اور دوسروں کے بارے میں، اُس کے اندر اعتراف (acknowledgement) کا مزاج ہو- یہی مزاج اس دنیا میں، آدمی کی کامیابی کا ضامن ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔