← Al-Risala December 2014Al-Risala December 2014
ہدایت اور ضلالت
Urdu · 3 min read
قرآن بلاشبہہ کتابِ ہدایت ہے- قرآن بتاتا ہے کہ اِس دنیا میں انسان کے لیے صراطِ مستقیم کیا ہے- لیکن اِسی کے ساتھ قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قرآن سے ہدایت پانے کا انحصار اِس پر ہے کہ آدمی خود ہدایت کا طالب ہے یا نہیں- اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے: یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیراً وما یضل بہ إلا الفاسقین (2:26) یعنی اللہ قرآن کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس کے ذریعے سے راہ دکھاتا ہے- اور وہ گمراہ کرتا ہے، اِس کے ذریعے اُن لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں یہ سوال ہے کہ ایک ہی کتاب (قرآن) کس طرح ہدایت کا ذریعہ بھی بنتی ہے اور ضلالت کا ذریعہ بھی- یہ معاملہ اُس وقت سمجھ میں آتا ہے جب کہ یہ ذہن میں رکھا جائے کہ قرآن کا موضوع کیا ہے- یہ فرق موضوع (subject)کے فرق کی بنا پر پیدا ہوتا ہے-
علمی اعتبار سے، موضوع کی دو قسمیں ہیں— ایک سائنسی موضوع اور دوسرا انسانیاتی موضوع- سائنسی موضوع میں ریاضیات مدارِ استدلال ہوتی ہے- ریاضیات میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی، اور اگر کوئی شخص اختلاف کرے تو نہایت آسانی کے ساتھ اس کو سٹل (settle) کیاجاسکتا ہے- لیکن انسانیات (humanities)کا معاملہ اِس سے مختلف ہے- یہاں ہمیشہ اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے، اور اگر کوئی شخص اختلاف کرے تو اس کو ختم کرنے کی کوئی حتمی بنیاد نہیں ہوتی-
مثال کے طورپر قرآن میں ہے: السارق والسارقة فاقطعوا أیدیہما(5:38)- بظاہر یہ ایک حکم ہے، لیکن لوگوں نے مختلف انداز میں اس کی تاویل کی ہے- مثلاً کوئی کہتا ہے کہ اُس سے مراد ہر سارق (چور) ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اس سے مراد صرف عادی سارق ہے- کوئی کہتا ہے کہ سارق کی صرف انگلی کاٹنا کافی ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اس کا پورا ہاتھ کاٹنا ضروری ہے- کوئی کہتا ہے کہ اِس آیت میں ’’قطعِ ید‘‘ کا لفظ اپنے حقیقی معنی میں ہے اور کوئی کہتا ہے کہ قطعِ ید سے مراد علامتی قطع ہے، نہ کہ حقیقی قطع، وغیرہ-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی آیتوں کی تاویل میں اِس قسم کا اختلاف ہمیشہ ممکن رہتا ہے- ایساکوئی فارمولا نہیں جس سے اِس تفسیری تعدّد کو حتمی طور پر ختم کردیا جائے، جس طرح دو اور دو چار کے معاملے میں ممکن ہوتا ہے- قرآن کے معاملے میں حتمی تاویل ایک انفرادی معاملہ ہے، یعنی جو شخص کسی تاویل کومان لے، وہ اس کے لیے حتمی تاویل بن جائے گی، ورنہ نہیں-
قرآن کے کلام کی نوعیت کسی کمی کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ وہ عین مطلوب ہے- واقعہ یہ ہے کہ قرآن صرف بیانِ حقیقت (statement of fact) نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی سنجیدگی کا امتحان بھی ہے- قرآن اگر دو اور دو چار کی زبان میں ہوتا تو اس کے قاری کا امتحان نہیں ہوسکتا تھا- ایسی صورت میں قرآن میں جبر (compulsion)کا عنصر شامل ہوجاتا، اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جبر اور آزادانہ امتحان (test)دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے-
اصل یہ ہے کہ قرآن حقیقتِ واقعہ کا ایک اظہار ہے- اب جو شخص حقیقت کا سچا متلاشی ہو، یعنی وہ اِس معاملے میں آخری حد تک سنجیدہ ہو کہ اس کو سچائی کو دریافت کرنا ہے،اس کا یہ احساس ہو کہ اگر وہ سچائی کو دریافت کیے بغیر مرجائے تو اس کی موت ایک بد ترین قسم کی ناکام موت ہوگی، تب وہ ضرور سچائی کو پالے گا-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
کسی شخص کے اندر اِس ذہن کا موجود ہونا اپنے آپ میں اِس بات کی ضمانت ہے کہ حقیقت جب اس کے سامنے ظاہر ہو تو وہ اس کے انکار کا تحمل نہ کرسکے- وہ اپنے سدادِ فکر (sound thinking) کی بنا پر التباس کے عناصر (elements of doubt) کا تجزیہ کرکے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنادے- ایسا شخص کبھی گمراہ نہ ہوگا- اس کا حال اُس انسان جیسا ہو جائے گا جس کے سامنے حقیقت آئے تو وہ فوراً اس کو پہچان لے- یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں تمثیل کی زبان میں یکاد زیتہا یضیئ ولو لم تمسسہ نار (24:35) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے- (24 جون 2014 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it