قرآن کی سورہ نمبر 29 میں آزمائش کے ایک معاملہ کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَآ اُوْذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ ۭ وَلَىِٕنْ جَاۗءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ ۭ اَوَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ (العنکبوت: 10) یعنی لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے- پھر اللہ کی راہ میں اُس کو جب کوئی آزمائش پیش آتی ہے تو وہ انسانی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتاہے- اور اگر تمھارے رب کی طرف سے کوئی مدد آجائے تو وہ کہیں گے کہ ہم تو تمھارے ساتھ تھے- کیا اللہ اس سے اچھی طرح باخبر نہیں جو لوگوں کے دلوںمیں ہے- قرآن کی اس آیت میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے ، جو اپنے آپ کو مومن اور مسلم تو سمجھتے ہیں لیکن شعوری اعتبار سے وہ زیادہ پختہ نہیں ہوئے- اُن کا ذہنی ارتقا اِس درجہ کا نہیں ہوتا کہ وہ پیش آمدہ صورت حال کو کتاب اللہ کی روشنی میں جانچیں- وہ شبہہ پیدا کرنے والے واقعہ کا تجزیہ (analysis)کرکے اُس کی اصل نوعیت کو سمجھیں اور اپنے یقین کو بدستور برقرار رکھیں-
داعی کے ذریعہ دین کی دعوت اٹھے اور ایک شخص ابتدائی طورپر اُس کو حق سمجھ کر اُس کا ساتھی بن جائے- تب بھی قانونِ فطرت کے مطابق التباس کا عنصر (element of doubt)کا امکان باقی رہے گا- مثلاً اجتماعی زندگی کی بنا پر شکایت کے مواقع پیدا ہوں گے، دوسروں کی طرف سے بربنائے غلط فہمی مخالفتیں کی جائیں گی، حالات کے تحت آزمائش کی صورتیں پیدا ہوں گی، وقت کے بڑے اُس کے دشمن بن جائیں گے- ایسی صورت میں اگر آدمی کے اندر شعوری پختگی موجود ہو تو وہ انسانی آزمائشوں کا کتاب اللہ کی روشنی میں تجزیہ کرسکے گا، اور اِس طرح اپنے یقین کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگا-
اِس کے برعکس، اگر آدمی کے اندر شعوری پختگی نہ ہو تو وہ حالات کو دیکھ کر مشتبہ ہوجائے گا- وہ غلط طورپر یہ سمجھنے لگے گا کہ آزمائش کی جو صورت پیش آرہی ہے، اُس کی نوعیت انسان کی آزمائش کی نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ کی تنبیہہ ہے، اور اس بنا پر ہے کہ میں نے شاید ایک ایسے راستے کو اختیار کرلیا ہے، جو اللہ کا مطلوب راستہ نہیں- اس طرح وہ شبہہ میں پڑ کر داعی حق کا ساتھ چھوڑ دے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔