قرآن کی سورہ نمبر 55 میں ایک آیت 31 بار آئی ہے: فبأیّ آلاء ربّکما تکذبان (سورہ الرحمن) یعنی تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے- اِس آیت میں ’آلاء‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے- آلاء کی واحد إلِیٌّ ہے- عربی لغت میں عام طورپر اِس کے معنی ’’نعمت‘‘ بتائے گئے ہیں، مگر اِس سے مراد عام نعمت نہیں ہے- اِس سے مراد وہ نعمت ہے جو تحیر خیز حد تک عظیم ہو- قرآن میں آلاء کا لفظ دراصل پُراستعجاب نعمتوں (wondrous bounties) کے لیے استعمال ہوا ہے-
سورہ الرحمن میںاللہ کی مختلف نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے- اور اُس کے بعد بار بار یہ آیت آئی ہے کہ تم اللہ کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤگے- اِس آیت میں آلاء سے مراد پُراستعجاب نعمتیں ہیں، اور جھٹلانا (تکذیب) کا مطلب ہے اُس کو نظر انداز کرنا اور اپنے آپ کو اُس کا معترف نہ بنانا-
یہی موجودہ دنیا میں انسانوں کی اکثریت کا حال ہے- وہ ہر وقت اللہ کی انتہائی عظیم نعمتوں کو دیکھتے ہیں، لیکن اُن پر غور نہیں کرتے- وہ اُن کو فار گرانٹیڈ (for granted) لیتے رہتے ہیں- اِس بناپر ایسا ہوتا ہے کہ پُراستعجاب نعمتیں بھی اُن کو غیر اہم نظر آتی ہیں- اِن نعمتوں کے مقابلہ میں جو رسپانس (response) اُن کو دینا چاہئے، اُس کو دینے سے وہ قاصر رہتے ہیں-
یہی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے- انسان کو عقل اِس لیے دی گئی کہ وہ اِن نعمتوں کو دیکھ کر اُن پر غور کرے، وہ اُن کا اعلی اعتراف کرے، وہ اِن نعمتوں کے خالق کے آگے پوری طرح جھک جائے- مگر انسان ایسا نہیں کرتا- انسان کی یہ حقیقت فراموشی معاف نہیں کی جائے گی- اِس فراموش رویہ کی بنا پر آخرت میں، اُس کی سخت پکڑ ہوگی- البتہ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں اور حقیقت شناسی کی زندگی گزاریں، وہ آخرت میں اُس کااعلی انعام پائیں گے- ایمانی زندگی دراصل عارفانہ زندگی کا دوسرا نام ہے- عارفانہ زندگی یہ ہے کہ آدمی اللہ کی نعمتوں کو دریافت کرے، اور شکر واعتراف کے جذبے کے ساتھ زندگی گزارے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔