ایک حدیث ِ رسول میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کو اللہ کے سامنے 5 سوالوں کے جواب دینے ہوں گے: لاتزول قدم ابن آدم یوم القیامة من عند ربہ حتى یُسئل عن خمس(قیامت کے دن انسان کے قدم اس کے رب کے سامنے سے اس وقت تک نہ ہٹیں گے جب تک کہ وہ پانچ باتوں کا جواب نہ دے لے) ان پانچ باتوں میں سے ایک یہ ہے: عن شبابہ فیما ابلاہ (الترمذی، رقم الحدیث: 2416) جوانی کس چیز پر گزاری-
بظاہر اس حدیث میں یہ ہے کہ اپنی جوانی کیسے گزاری- لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اس کو تخلیق کے اعتبار سے جو خاص صلاحیت عطا کی اس کو کہاں استعمال کیا- ہر عورت یا مرد جو پیدا ہو کر اس زمین پر آتا ہے، وہ اپنے اندر ایک خاص صلاحیت (unique quality) لے کر آتا ہے، خالق کو یہ مطلوب ہے کہ ہر ایک اپنی اِس صلاحیت کو دریافت کرے، اور اِس صلاحیت کو خدائی نقشہ کے مطابق بھر پور طورپر استعمال کرے- جو عورت یا مرد ایسا نہ کرے وہ یقینی طورپر آخرت میں اللہ کے یہاں پکڑے جائیں گے- آخرت میں ہر ایک کا معاملہ اس بنیاد پر ہوگا کہ اس نے اپنی خداداد صلاحیت (God given quality) کو صحیح طورپر استعمال کیا یا نہیں-جوانسان اِس زمین پر پیدا ہوتا ہے، اُس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت کرے- وہ اِس دنیا میں اپنے رول کو سمجھے، اور اللہ کی ہدایت کے مطابق، اپنے اِس رول (کر دار) کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ادا کرے-
جو شخص ایسا کرے، اُس کے لیے موت کے بعد آنے والی دنیا میں ابدی جنت ہے، اور جو شخص ایسا نہ کرے، اُس کے لیے دنیا میں بھی ناکامی ہے، اور آخرت میں بھی ناکامی- جس شخص نے اپنے لیے فطرت کے عطیے کو جانا، وہ ایک کامیاب انسان ہے- اِس کے برعکس جس شخص نے اپنے بارے میں فطرت کے عطیہ کو نہیں جانا، وہ خالق کے نزدیک اندھا بہرا ہے- ایسے عورت یا مرد کی اللہ کے یہاں کوئی قیمت نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔