Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala December 2014
Al-Risala December 2014

اصحابِ رسول کا نمونہ

Urdu · 3 min read

المعجم الاوسط للطبرانی (باب المیم: 5124) میں صحابہ کے بارے میں ایک روایت آئی ہے- اس کو مفسر ابن کثیر نےاپنی تفسیرکی کتاب میں سورہ العصر کی تفسیر کے تحت نقل کیا ہے- اس روایت کے راوی ایک صحابی عبد اللہ بن حصن ہیں- وہ کہتے ہیں : کان الرجلان من أصحاب النبی صلى اللہ علیہ وسلم،اذا التقیا لم یتفرقا حتى یقرأ أحدہما على الآخر: ’’والعصر إن الإنسان لفی خسر‘‘، ثم یسلّم أحدہما على الآخر- یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی اگر باہم ملتے تو وہ جدا نہیں ہوتے تھے، یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے شخص کو سورہ العصر پڑھ کر سناتا، پھر دونوں ایک دوسرے کو سلام کرکے رخصت ہوتے-

other sourceWords of another person or source

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا طریقہ تھا- اِس کا تقابل (comparison) موجودہ زمانے کے مسلمانوں سے کیجئے- موجودہ زمانے کے مسلمان جب باہم ملتے ہیں تو خواہ وہ دو ہوں یا دو سے زیادہ ہوں، وہ عام طورپر مفروضہ دشمنوں کے ظلم کا چرچا کرتے ہیں-

مثلاً فلسطین میں عربوں کے اوپر اسرائیل کا ظلم، ہندوستان میں مسلم دشمن پارٹی کا اقتدار میں آنا، 11 ستمبر 2001 کے بعد امریکا میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، مغربی ملکوں میں اسلام فوبیا (Islamophobia) کے مبالغہ آمیز قصے، غیر مسلم اخبار وں میں مسلمانوں کے خلاف چھپنے والی خبریں، غیر مسلم قوموں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں، حکومت کے اداروں میں مسلمانوں کے خلاف تعصب، وغیرہ-

وہ واقعات جن کو موجودہ زمانے کے مسلمان ’’ظلم وتعصب‘‘ کہتے ہیں، وہ سب کے سب مزید اضافہ کے ساتھ اصحاب رسول کے زمانے میں موجود تھے، لیکن اصحاب رسول ان کا چرچا نہیں کرتے تھے- وہ ہمیشہ ان باتوں کا چرچا کرتے تھے جن کو قرآن میں قابلِ ذکر بتایا گیاہے-

اصحابِ رسول اور موجودہ زمانے مسلمانوں کے درمیان یہ جو فرق ہے اُس سے معلوم ہوتاہے کہ کیوں ایسا ہے کہ اصحابِ رسول کامیاب تھے، اور موجودہ زمانے کے مسلمان ناکام ہیں- کیوں ایسا ہوا کہ اصحابِ رسول پر اللہ کی نصرت نازل ہوئی- جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ کوششیں کرتے ہیں لیکن ان کی کوششیں نتیجہ خیز نہیں ہوتیں، وہ جان ومال کی قربانی دیتے ہیں لیکن ان کی قربانیاں رائیگاں چلی جاتی ہیں- وہ مسجدوں میں اور بڑے بڑے جلسوں میں دعائیں کرتے ہیں لیکن ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں- وہ خیر امت ہونے کا دعوی کرتے ہیں، لیکن عملی صورت حال کے اعتبار سے ان کی حالت اِس کے برعکس ہے-

امام مالک بن انس (وفات: 795ء) کا ایک بامعنی قول اِن الفاظ میں آیا ہے: لن یصلح آخر ہذہ الأمة، إلا بما صلح بہ أولہا (احکام الجنائز للألبانی: 198) یعنی امت مسلمہ کے آخری گروہ کے حالات بھی صرف اسی طرح درست ہوں گے جس طرح امت کے ابتدائی گروہ کے حالات درست ہوئے تھے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی اِس معاملہ میں اصل رہنما اصول ہے-موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو امام مالک ابن انس کے اِس قول کو اپنا رہنما بنانا ہوگا- اِس کے سوا کوئی دوسری تدبیر اُن کے کام آنے والی نہیں- خواہ یہ تدبیریں کتنی ہی زیادہ مقدار میں کی جائیں- پرشور اخبار ی بیانات، جلسہ جلوس کے ہنگامے، بد دعاؤں اور قنوت نازلہ کا اہتمام، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر نفرت اور غصہ کی دھوم مچانا، اور سوسائڈبامبنگ(suicide bombing) کے ذریعہ اپنے آپ کو ہلاک کرنا، مفروضہ مسلم دشمن تاجروں کا بائیکاٹ، یرغمال(hostage) بنانے کا طریقہ، وغیرہ- ان طریقوں کو اختیار کرنے سے نہ اب تک کچھ ہوا ہے، اور نہ آئندہ کچھ ہونے والا ہے-

یہ تمام طریقے صرف اپنے غصہ کا اظہار ہیں- اور اس دنیا میں غصے کے اظہار سے کبھی کسی کو کچھ نہیں ملتا- مطلوب نتیجہ صرف درست منصوبہ بندی کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے، نہ کہ نفرت اور غصہ کا اظہار کرنے سے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content