مسند امام احمد میں مرویات عبد اللہ بن عمر کے باب کے تحت، ایک روایت ہے: قال جاء رجل إلى رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم- فقال: یا رسولَ اللہ، إنی اقرأ القرآن فلا أجد قلبی یعقِل علیہ؟ فقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: إن قلبَک حُشِیَ الإیمانَ، وإن الإیمان یُعْطَى العبدَ قبل القرآن (مسند احمد: 6604) یعنی وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا- اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میں قرآن کو پڑھتا ہوں- مگر قرآن میری سمجھ میں نہیں آتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھارا دل ایک ایمان سے بھرا ہوا ہے- اور ایمان کسی بندے کو قرآن سے پہلے دیا جاتا ہے-
اِس حدیث میںایمان کا لفظ دوبار آیا ہے مگر دونوں جگہ وہ الگ الگ معنی میں ہے-پہلے ایمان سے مراد اس آدمی کے جاہلی افکار ہیں- جو بظاہر قبول اسلام کے باوجود ابھی تک اس کے دماغ میں بھرے ہوئے تھے- دوسرے ایمان سے مراد وہ حقیقی ایمان ہے جو قبول اسلام کے بعد کسی انسان کو اللہ کی توفیق سے ملتا ہے- یہی دوسرا ایمان وہ ہے جو کسی آدمی کے لئے قرآن کو سمجھنے میں معاون بنتا ہے-
اِس حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ مذکورہ شخص نے اگرچہ بظاہر اسلام قبول کرلیا تھا لیکن اس کی سابقہ کنڈیشننگ ابھی تک ٹوٹی نہیں تھی- جس بنا پر اس کا ذہن قرآن کو سمجھ نہیں پاتا تھا- آپ نے فرمایا کہ پہلے تم اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرو- اس طرح تم ایک تیار ذہن (prepared mind) بن جاؤگے، اور پھر قرآن کو سمجھنا تمھارے لئے آسان ہوجائے گا-کسی موضوع (subject) کودرست طورپر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نے اس کے مطابق اپنے ذہن کو تیار کیا ہو- جو آدمی مطالعہ سے پہلے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت نہ رکھتا ہو، وہ کوئی بھی کتاب درست طورپر سمجھ نہیں سکتا، نہ مذہبی کتاب اور نہ غیر مذہبی کتاب-یہی معاملہ قرآن کا بھی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔