قرآن کی سورہ الذاریات میں انسان کے مقصد ِ تخلیق کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیاہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ مَآ اُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِہِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ فَوَیْلٌ لِّـلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِہِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ (51:56-60) یعنی اور میںنے جنّ اور انسان کوصرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلائیں۔ بے شک اللہ ہی روزی دینے والا،زور آور،زبردست ہے۔ پس جن لوگوں نے ظلم کیا، ان کا ڈول بھرچکا ہے، جیسے ان کے ساتھیوں کے ڈول بھرے تھے،پس وہ جلدی نہ کریں۔ پس منکروں کے لیے خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ;کے شاگرد مجاہدنے ’لیعبد ون‘ کی تفسیر ’لیعرفونی‘ (تفسیر القرطبی) سے کی ہے- اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اِس آیت میں عبادت سے مراد شکلِ عبادت نہیں ہے، بلکہ روحِ عبادت ہے- یہاں عبادت سے مراد فارم نہیں ہے، بلکہ عبادت کی اسپرٹ ہے، اور بلاشبہہ عبادت کی اسپرٹ وہی ہے جس کو معرفت (realization)کہا جاتا ہے-
اب یہ سوال ہے کہ معرفت سے مراد کس چیز کی معرفت ہے- ایک لفظ میں، اِس سے مراد ہے اپنے اور اپنے خالق کے درمیان پائی جانے والی حیثیتِ واقعی کو دریافت کرنا- اِس حیثیت ِ واقعی کے دو پہلو ہیں — ایک ہے بندے کی نسبت سے اور دوسرا ہے خالق کی نسبت سے- دوسرے لفظوں میں یہ کہ اِس بات کو درجۂ معرفت میں جاننا کہ انسان عاجزِ مطلق (all powerless)ہے اور خدا قادرِ مطلق (all powerful) - خدا پورے معنوں میں دینے والا (giver) ہے اور انسان پورے معنوں میں لینے والا (taker) -
عبادت کی یہ حقیقت قرآن کی مذکورہ آیات میں بتادی گئی ہے- آیت کے اگلے الفاظ یہ ہیں: مَآ اُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ - اِس آیت کے دو حصے ہیں — پہلا حصہ ہے: مَآ اُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ - اِس کا مطلب یہ ہےکہ انسان کامل معنوں میں رزق کا محتاج ہے، یعنی یک طرفہ طورپر لینے والا، اور اللہ کامل معنوںمیں رازق ہے، یعنی یک طرفہ طورپر دینے والا- مذکورہ سلسلۂ آیات کے آخری الفاظ (فَوَیْلٌ لِّـلَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ) بتاتے ہیں کہ یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، وہ جزا اور سزا کے ابدی قانون سے جڑا ہوا ہے، یعنی جو شخص حقیقی معنوں میں تخلیق کے مقصد کو پورا کرے، اس کے لیے جنت ہے اور جو شخص اِس امتحان میں ناکام ہوجائے، اس کے لیے جہنم-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔