ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے- عن أبی ہریرة، قال جلس جبریل إلى النبی صلى اللہ علیہ وسلم، فنظر إلى السماء، فإذا ملک ینزل، فقال جبریل: إن ہذا الملک ما نزل منذ یوم خلق، قبل الساعة، فلما نزل قال: یا محمد، أرسلنی إلیک ربک: أفملکا نبیا یجعلک، أو عبدا رسولا؟ قال جبریل: تواضع لربک یا محمد- قال: بل عبداً رسولاً- (مسند احمد: 7160) یعنی ابوہریرہ کہتے ہیں کہ جبریل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے- پھر انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا- تو ایک فرشتہ اوپر سے اترا- جبریل نے کہا کہ یہ فرشتہ جب سے اس کو پیدا کیاگیا، وہ اس سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا- جب وہ فرشتہ آگیا تو فرشتہ نے کہا کہ اے محمد، آپ کے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے- آپ کو وہ بادشاہ پیغمبربنائے یا بندہ پیغمبر- جبریل نے کہا کہ اے محمد اپنے رب کے لئے تواضع کا طریقہ اختیار کیجئے- آپ نے کہا کہ میں عبد پیغمبر بننا پسند کرتاہوں-
اس حدیث کا تعلق صرف پیغمبر کی ذات سے نہیں ہے- بلکہ اپنے عمومی انطباق کے اعتبار سے یہ حدیث، ابدی طورپر داعئ دین کے رول کو بتاتی ہے- اور وہ یہ کہ اس دنیا میں داعی کا رول ایک پولیٹکل رول نہیں ہے، بلکہ وہ ایک غیر سیاسی (non-political) رول ہے-
اسلام ایک پرامن مذہب ہے، اور اسلامی دعوت ایک پرامن دعوت- اسلامی مشن کوئی پولیٹکل مشن نہیں- اسلامی مشن کا مقصد یہ ہے کہ پرامن ذرائع کو استعمال کرکے انسان کو بتایا جائے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے- وہ کس طرح ابدی کامیابی کو حاصل کرسکتا ہے- مزید یہ کہ دنیا کی زندگی میں، وہ کون سا طریقۂ حیات اختیار کرے، جو اُس کے لیے مقصد زندگی کے حصول میں رکاوٹ نہ بنے- اسلامی دعوت اِس لئے ہوتی ہے کہ وہ انسان کے لئے آسانی پیدا کرے- وہ انسان کو غیر ضروری مشکل سے بچائے- مذکورہ حدیث میں مومنانہ زندگی یا داعیانہ زندگی کی اِسی حقیقت کو بتایا گیا ہے- اِس حدیث کا تعلق سنت رسول سے ہے، نہ کہ فضیلت رسول سے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔