Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Al-Risala December 2012
Al-Risala December 2012

تاریخ انسانی کا خاتمہ

Urdu · 8 min read

12 اگست 2012 کو امریکا کی ایک خبر تمام اخباروں میں نمایاں طورپر شائع ہوئی- وہ خبر یہ تھی کہ ایک امریکی صحافی کو نظریاتی سرقہ (plagiarism) کا مرتکب پایا گیا اور اِس بنا پر اس کو اس کے صحافتی جاب سے فوری طورپر معطل کردیاگیا- اس خبر کی سرخی یہ تھی:

American journalist suspended for plagiarism.

نظریاتی سرقہ (plagiarism) کیاہے، وہ دراصل کسی شخص کی فکری پراپرٹی (intellectual property) کا سرقہ کرنے کا نام ہے- نظریاتی سرقہ یہ ہے کہ کسی شخص کے آئڈیا کو اصل مصنف کے حوالے کے بغیر اپنا بنا کر نقل کیا جائے:

Plagiarism: Copying someone's idea without crediting the original author. (Merriam-Webster Dictionary)

other sourceWords of another person or source

یہ معاملہ امریکا کے مشہور صحافی مسٹر فرید زکریا کا ہے-وہ امریکی میگزین ٹائم (Time) کے ایڈیٹر تھے- انھوں نے ٹائم کے شمارہ 20 اگست 2012 میں اپنا ایک مضمون گن کلچر کے موضوع پر شائع کیا- اِس کا عنوان یہ تھا: The Case for Gun Control

اِس مضمون میں انھوںنے ایک پیراگراف شامل کیا تھا جو پورا کا پورا، ایک اور شائع شدہ مضمون سے لیا گیا تھا- یہ دوسرا مضمون امریکا کی ایل (Yale) یونی ورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر جل لیپور (Jill Lepore) کا تھا، جس کو مسٹر فرید زکریا نے بلا حوالہ اپنے مضمون میں شامل کرلیا تھا- یہ مضمون امریکا کے ایک اخبار نیویارکر (The New Yorker) کے شمارہ 22اپریل 2012 میں اس عنوان کے تحت چھپا تھا— Battleground America

نظریاتی سرقہ کا یہ واقعہ جو عالمی میڈیا میں آیا ہے، وہ کوئی سادہ واقعہ نہیں- وہ دراصل اِس قسم کے ایک زیادہ بڑے سرقہ (super plagiarism) کے لیے ایک یاددہانی (reminder) کی حیثیت رکھتا ہے- وہ ایک انسان کی برخاستگی کے حوالے سے یہ یاد دلا رہا ہے کہ شاید وہ وقت آگیا ہے جب کہ کائنات کا مالک پوری تہذیب کو برخاست کردے-

سترھویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا میں روایتی دور قائم تھا- اس کے بعد دنیا میں سائنٹفک دور کا آغاز ہوا- سائنٹفک دور سے مراد وہ دور ہے جب کہ انسان نے نیچر (nature)پر آزادانہ غور وفکر شروع کیا- اِس غور وفکر کے بعد یہ ہوا کہ نیچر میں چھپے قوانین ایک کے بعد ایک دریافت ہونے لگے- مثلاً پانی میں اسٹیم پاور کی دریافت، اور مادّہ (matter) میں بجلی (electricity)کی دریافت، وغیرہ-جدید دنیا، خاص طور پر مغربی دنیا میں کئی سو سال تک اِس موضوع پر رسرچ جاری رہی، یہاں تک کہ فطرت میں چھپے ہوئے ہزاروں قوانین دریافت ہوگئے- اِن کے ذریعے ایک نئی ٹکنالوجی بنی اور بہت سے نئے فنی علوم وجود میں آئے- وہ ظاہرہ جس کو جدید مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، اس کی تشکیل تمام تر انھیں دریافت کردہ قوانین فطرت پر مبنی ہے-

یہ قوانین جو موجودہ زمانے میں معمارانِ تہذیب نے دریافت کیے، اُن کو سائنسی قوانین (scientific laws) کہاجاتا ہے- مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ سائنسی قوانین نہیں ہیں، بلکہ وہ خدائی قوانین(divine laws) ہیں- خدائی قوانین کو نظامِ فطرت سے لینا اور اُن کو سائنس قوانین کے نام پر اپنا بناکر پیش کرنا، یہ بلاشبہہ ایک سپر سرقہ(super plagiarism) کا کیس ہے- تہذیب جدید کے معمار وں کا یہ واقعہ بھی بلا شبہہ اِسی قسم کا ایک سرقہ ہے- امریکی صحافی کا سرقہ اگر جرنلسٹک سرقہ (journalistic plagiarism) تھا تو معمارانِ تہذیب کا سرقہ سائنٹفک سرقہ (scientific plagiarism) ہے- امریکی صحافی نے تو صرف اپنے ایک آرٹکل میں نظریاتی سرقہ کا ارتکاب کیا تھا، جب کہ مغربی تہذیب کا پورا کا پورا ڈیولپمنٹ اِسی قسم کے عظیم تر نظریاتی سرقہ کی بنا پر ہوا ہے- امریکی جرنلسٹ کا سرقہ اگر صرف ایک انفرادی سرقہ تھا تو مغربی تہذیب کا سرقہ اس کے مقابلے میں ایک عالمی سرقہ (global plagiarism) کی حیثیت رکھتا ہے-

دنیا سے انسان کے بے دخلی

تہذیب کی ترقی کے نام پر مذکورہ سائنسی سرقہ کئی سو سال سے بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں جاری ہے، مگر اِس مدت میں اہلِ تہذیب کے درمیان کوئی شخص نہیں اٹھا جو یہ اعلان کرے کہ یہ تمام تہذیبی ترقیاں خدائی قوانین (divine laws)کی بنا پر ممکن ہوئی ہیں- ہم کو چاہیے کہ ہم کھلے طورپر اِس حقیقت کا اعتراف کرلیں- بے اعترافی کا یہ معاملہ اب اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہے- اب آخری طورپر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ کائنات کا خالق انسان کو زمین کے چارج سے بے د خل کردے اور زمین کا اور پوری دنیا کا نظام حقیقتِ واقعہ کی بنیاد پر قائم کرے-

دنیا کا یہ انجام پیشگی طورپر مقدر تھا- خدا نے پیشگی طورپر یہ اعلان کردیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب کہ انسان کو زمین کے چارج سے بے دخل کردیا جائے اور دنیا کا نیا نظام بنایا جائے- اِس سلسلے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے: وما قدروا اللہ حق قدرہ، والأرض جمیعا قبضتہ یوم القیامة، والسماوات مطویّات بیمینہ، سبحانہ وتعالى عما یشرکون (39:67)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت میں ’قدر‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے- قدر کا مطلب ہے اندازہ کرنا، یعنی انسان جو کچھ دنیا میں کررہا ہے، وہ اِس لیے کررہا ہے کہ اس نے خالق کا کم تر اندازہ (under-estimation) کررکھا ہے- یہ کم تر اندازہ کیا ہے، اِس کم تر اندازہ کو قرآن کی ایک آیت میں اِس طرح بیان کیاگیاہے: افحسبتم أنما خلقناکم عبثاً وأنکم إلینا لا ترجعون(23:115) یعنی کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہمارے پاس نہیں لائے جاؤگے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے- یہ روایت قرآن کی مذکورہ آیت (وما قدروا اللہ حق قدرہ) کی مزید تشریح کرتی ہے- روایت کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عمر أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرأ ہذہ الآیة ذات یوم على المنبر ’’وما قدروا اللہ حق قدرہ، والأرض جمیعاً قبضتہ یوم القیامة والسماوات مطویات بیمینہ، سبحانہ وتعالى عما یشرکون‘‘ ورسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یقول ہکذا بیدہ ویحرکہا یقبل بہا أو یدبر یمجد الرب نعتہ: أنا الجبار، أنا المتکبر، أنا الملک، أنا العزیز، أنا الکریم، فرجف برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المنبر حتی قلنا لیخرنّ بہ (السلسلة الصحیحة، 7/596) یعنی عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ممبر کے اوپر قرآن کی مذکورہ آیت پڑھی- اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اپنی تمجید کرے گا اور کہے گا کہ میں ہوں جبار، میں ہوں متکبر، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں زبردست، میں ہوں کریم- کہاں ہیں زمین کے بادشاہ، کہاں ہیں جبار، کہاں ہیں متکبر- یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لرزہ طاری ہوا، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ شاید آپ گر پڑیں-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت آگیا ہے جب کہ خالقِ کائنات ظاہر ہو اور براہِ راست طورپر دنیا کا چارج لے لے- اسباب کے اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگاکہ قرآن میں جس آنے والے وقت کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ وقت بالفعل آچکا ہے، اُس وقت کے آنے میں اب کوئی دیر نہیں-

لائف سپورٹ سسٹم کی تباہی

دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کو بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے- مثلاً پانی، روشنی، آکسیجن، نباتات، وغیرہ- اِن چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتا ہے، یعنی معاونِ حیات نظام- سائنس کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین پر یہ معاونِ حیات نظام خطرناک حد تک بگڑ گیاہے، سائنس داں برابر یہ انتباہ دے رہے ہیں کہ زمین پر انسان کی آبادکاری بہت جلد ناممکن ہوجائے گی، یہاں تک کہ مشہور برٹش سائنس داں اسٹفن ہاکنگ نے اِس صورت حال کی نشان دہی کرتےہوئے کہا ہے کہ ہم کو اب خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے، حالاں کہ اسٹفن ہاکنگ اور دوسرے تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ تجویز عملاً ممکن نہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زمین کا وہ حصہ جس کو آرکٹک (Arctic) کہاجاتا ہے، یہ برف کے بہت بڑے پہاڑ کی مانند ہے جو کئی ہزار مربع میٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے- یہ برفانی پہاڑ زمین پر موسم کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے- آرکٹک (قطب شمالی) کا یہ منطقہ مختلف پہلوؤں سے زمین پر انسان کی آبادی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے- مگر بیسویں صدی کے ربع آخر میں، جب سے گلوبل وارمنگ کے ظاہرے نے شدت اختیار کی ہے، قطب شمالی کی یہ برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے- سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، شایداندیشہ ہے کہ اگلے 10 برسوں میں یہ پورا برفانی پہاڑ پگھل کر سمندروں میں چلا جائے- اِس کی بنا پر مختلف قسم کے خطرناک نتائج پیدا ہوں گے جو زمین کو انسان کے لیے ناقابلِ رہائش بنا دیں گے-اس سائنسی تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا ( 14اگست 2012) میں حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوا ہے:

Arctic Sea Ice May Vanish in 10 Years (p. 19)

اوپر جو کچھ لکھا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان نے اُس نوعیت کا ایک بہت بڑا واقعہ کیا ہے جس کو نظریاتی سرقہ کہاجاتا ہے- وہ چیز جس کو جدید تہذیب کہا جاتا ہے، وہ پوری کی پوری اِسی جرم کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے- اِس جرم میں موجودہ زمانے کی پوری آبادی شریک ہے- جن لوگوں نے اِس تہذیب کو وجود دیا، وہ اِس جرم میں براہِ راست طورپر شریک ہیں، اور بقیہ لوگ جو تہذیب کے اِس جرم پر نکیر (denial) کیے بغیر اُس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، وہ بالواسطہ طورپر اِس جرم میں شریک ہیں-

اِس نظریاتی سرقہ (plagiarism)کے خلاف خالق کی کارروائی اب مستقبل بعید کی چیز نہیں رہی- یہ کارروائی اب عملاً شروع ہوچکی ہے- اِس کارروائی کو ایک لفظ میں اِس طرح کہا جاسکتا ہے کہ خالق نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ انسان کو مذکورہ جرم کی بنا پر زمین سے بے دخل کردیا جائے- خالق کا یہ فیصلہ لائف سپورٹ سسٹم کے خاتمے کی صورت میں بتدریج ظاہر ہورہا ہے- بظاہر وہ وقت بہت قریب آچکا ہے جس کی پیشین گوئی قرآن کی مختلف آیتوں میں کی جاچکی تھی-

نوٹ: صدر اسلامی مرکز کا مذکورہ خطاب سی پی ایس کے حسب ذیل ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے:

http://cpsglobal.org/content/end-human-history-12th-aug-12

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content