ایک خبر کے مطابق، آرایس ایس کے سابق سرسنگھ چالک سی کے سدرشن (85 سال) 20 اگست 2012 کو عید الفطر (1433 ہجری) کے دن بھوپال میں على الصبح اپنی قیام گاہ سے نکل کر بھوپال کی تاریخی مسجد (تاج المساجد) کی طرف روانہ ہوگئے- انھوں نے بتایا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے کے لیے تاج المساجد جارہے ہیں- اس سے کئی انتظامی مسئلے پیدا ہوگئے، اِسی لیے مدھیہ پردیش کے ایک سینئر بی جے پی لیڈر نے مداخلت کی- اس کے بعد مسٹر سدرشن کو ایک مقامی مسلمان کے گھر لے جایا گیا- وہاں انھوں نے کئی مسلمانوں سے مصافحہ کیا اور ان کو عید کی مبارک باد دی اور عید کی سوئیاں کھائیں- مسٹر سدرشن نے اِس سے پہلے ایک بار انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں مسلمانوں کا طریقِ عبادت بہت اچھا لگتا ہے- لوگوں کا ایک صف میں کھڑا ہونا، ایک ساتھ ہاتھ باندھنا، ایک ساتھ جھکنا اور ایک ساتھ اپنی پیشانی کو زمین پر رکھنا اُن کو بہت متاثر کرتا ہے- ان کو یہ طریقِ عبادت ڈسپلن کی بہترین مثال معلوم ہوتا ہے- اِسی نوعیت کا ایک واقعہ 1950 میں پیش آیا تھا- یہ واقعہ یوپی کے ایک وزیر مسٹرگووند سہائے کا ہے- وہ آرایس ایس کے خصوصی ممبر تھے- بعد کو انھوں نے آرایس ایس کو چھوڑ دیا- اِس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی تھی کہ ان کو مسلمانوں کے خلاف آرایس ایس کی انتہا پسندانہ پالیسی غیر حقیقی نظر آتی تھی- انھوں نے آرایس ایس چھوڑنے کے بعد اِس موضوع پر ایک کتاب (Why I Left RSS) لکھی- (راشٹریہ سہارا اردو، نئی دہلی، 23 اگست 2012، صفحہ 7)
اِس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ دین ِ حق اور دوسرے لوگوں کے درمیان ایک فطری ’کلمہ سواء‘ (natural common ground)موجود ہے- دین ِ حق کے حاملین کے لیے بہترین آغاز ِ کار یہ ہے کہ وہ اِس فطری کلمہ سواء کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کام کریں- یہ بلاشبہہ ایک بہترین طریقِ کار ہے- مگر اِس امکان کو کامیاب طورپر استعمال کرنے کے لیے ضروری شرط یہ ہے کہ طرفین کے درمیان کشیدگی کا ماحول نہ ہو، بلکہ معتدل ماحول ہو- طرفین کے درمیان کشیدگی یا غیر معتدل ماحول میں اِس کام کو انجام نہیں دیا جاسکتا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔