ایک تعلیم یافتہ مسلمان اپنے بچوں کے ساتھ یورپ کے ایک ملک میں رہتے ہیں۔ ایک بار وہ اپنے بچوں کو لے کر دہلی آئے۔ انھوںنے کہا کہ میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ اب میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کی صحبت میں بیٹھ کر آپ سے مزید کچھ سیکھوں، مگر اگلے دن وہ کئی دنوں کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ چلے گئے، تاکہ اُنھیں تاریخی عمارات اور یادگاریں دکھائیں۔ میں نے اِ س کا سبب پوچھا تو انھوںنے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرے بچے میرے بغیر انجوائے (enjoy) نہیں کرسکتے، اس لیے مجھے اُن کے ساتھ جانا پڑا۔یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام والدین کا حال ہے۔اِن والدین میں کچھ وہ ہیں جو اعلان کے ساتھ سیکولر ہیں۔ کچھ دوسرے لوگ ہیں جو بہ ظاہر دین دار ہیں، لیکن دین ان کی ترجیح (preority) نہیں۔ جب بھی دین اور فیملی کے درمیان کسی اکی کا چوائس (choice) لینے کا سوال ہوتا ہے تو فوراً اُن کی فیملی ان کا چوائس بن جاتی ہے۔ ایسے موقع پر وہ دین کو اُسی طرح بھول جاتے ہیں، جیسے کہ وہ اُن کی فہرست حیات میں شامل ہی نہیں۔
اِسی کا نام اولاد پرستی ہے، اور اِس اولاد پرستی میں باریش لوگ بھی اتنا ہی مبتلا ہیں، جتنا کہ بے ریش لوگ۔ بے ریش گروہ اور باریش گروہ کے درمیان ظاہر کے اعتبار سے ضرور فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان بظاہر کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔فطرت کی تقسیم میں والدین کو اپنے بچوں کا ’’امام‘‘ بننا تھا، لیکن عملاً وہ خود اپنے بچوں کے ’’مقتدی‘‘ بنے ہوئے ہیں۔
قرآن میں اولاد کو فتنہ (8: 28) بتایاگیا ہے، یعنی آزمائش (test) کا ذریعہ۔ اولاد فتنہ کیوں ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اولاد کے لیے اُن کے دل میں بہت زیادہ محبت ہوتی ہے۔ اِس بڑھی ہوئی محبت کی بنا پر اولاد اپنے والدین کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ اِس معاملے میں آزمائش یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کے حق میں اپنی بڑھی ہوئی محبت کو کنٹرول کریں۔ وہ ایسا نہ کریں کہ اولاد کے ساتھ اپنی محبت کو عذر (excuse) بنائیں، بلکہ وہ یہ کریں کہ اس فطری تعلق کے باوجود وہ اپنی محبت کو خدا کے لیے خاص کردیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔