← Al-Risala December 2011Al-Risala December 2011
سوال وجواب
Urdu · 9 min read
میرے تجربہ کے مطابق، امریکا کے مسلمانوں میں آج کل ایک لفظ بہت زیادہ رائج ہے، وہ ہے— اہلِ سنت والجماعت۔ اس لفظ کا مفہوم اُن کے نزدیک یہ ہے کہ مسلم ملت عمومی طورپر جس مسلک پر قائم ہے، وہ درست مسلک ہے۔ براہِ کرم واضح فرمائیں کہ اہلِ سنت والجماعت سے کیا مراد ہے۔ اور کیا اہلِ سنت والجماعت کا مذکورہ مفہوم درست ہے۔ (خواجہ کلیم الدین، امریکا)
اہلِ سنت والجماعت کا مذکورہ مفہوم درست نہیں۔ ذیل میں اِس سوال کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’أہل السنۃ والجماعۃ‘‘ کا لفظ پہلی بار عبد اللہ بن عباس نے استعمال کیا( تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 390) ۔ ’’الجماعۃ‘‘ کے بارے میں مزید یہ کہاگیا ہے کہ اس سے مراد ایک بڑا مجموعہ نہیں، بلکہ اِس سے وہ لوگ مراد ہیں جو حق پر قائم ہیں، حتی کہ اگر صرف ایک شخص بھی حق پر قائم ہے تو وہ حدیث میں بیان کردہ ’’الجماعۃ‘‘ کا مصداق ہے۔ ابن مسعود نے فرمایا ہے : ’’الجماعۃ: ما وافق الحق إن کنتَ وحدک‘‘۔ ’’ولو کان التمسک شخصاً واحداً‘‘ (إغاثۃ اللہفان لابن قیم الجوزیۃ، 1/69 )
unverifiedAttribution could not be verified automatically
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ سے مراد وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: ما أنا علیہ وأصحابی، یعنی صحابہ اور دوسرے وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی سچی پیروی کرنے والے ہیں، یعنی متبعینِ سنت اور اصحابِ رسول۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حق کی معرفت کے لیے کیا صرف مطالعہ کی کثرت کافی ہے یا اِس کے لیے کوئی ا ور چیز درکار ہے۔ براہِ کرم ، اس سوال کی وضاحت فرمائیں ۔(عدنان خان، نئی دہلی)
میں کچھ ایسے افراد سے واقف ہوں جو حق کے متلاشی (seeker) تھے۔ انھوںنے بہت زیادہ مطالعہ کیا، بلکہ وہ ساری عمر مطالعہ ہی کرتے رہے۔ مگر بیش تر لوگ حق تک نہ پہنچ سکے، وہ کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گئے۔اپنے تجربے سے میں نے یہ جانا ہے کہ زیادہ مطالعے کا پلس پوائنٹ بھی ہے اور مائنس پوائنٹ بھی۔ اگر آدمی کے اندر تجزیہ (analysis) کی صلاحیت ہو، تو اس کا زیادہ مطالعہ اُس کو سچائی تک پہنچا دے گا۔ اور اگر اس کے اندر تجزیہ کی صلاحیت نہ ہو، تو اُس کا زیادہ مطالعہ صرف اس کے کنفیوژن میں اضافہ کرے گا۔مجھے ایک ایسے شخص کا علم ہے جس نے بہت زیادہ مطالعہ کیا اور پھر وہ سچائی تک پہنچا، کیوں کہ اس کے اندر تجزیہ کی صلاحیت تھی۔ یہ ایک بنگالی ہندو، ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیاتھے۔ انھوں نے گہرے مطالعے کے بعد اسلام قبول کرلیا۔ اِس کے برعکس مثال، ڈاکٹر رادھا کرشنن کی ہے۔ انھوںنے بہت زیادہ مطالعہ کیا، لیکن وہ سچائی تک نہ پہنچ سکے۔ آخر میں ان کا حافظہ ختم ہوگیا تھا، وہ کسی کو پہچانتے نہ تھے۔ اُن کا کیس میڈنیس (madness) کا کیس بن گیا۔ اِسی حال میں وہ مرگئے۔ ان کا یہ حال اِس لیے ہوا کہ ان کے اندر تجزیہ کی صلاحیت نہ تھی۔ میں نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان کی انگریزی بہت اچھی تھی، لیکن اِن کتابوں میں کنفیوژن کے سوا اور کچھ نہیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
پاکستان کے بعض علماء اور مجاہدین کا کہنا ہے کہ حدیث میں مذکور ’’غزوۂ ہند‘‘ کی روایت سے مراد انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگ ہے۔ براہِ کرم، اِس روایت کے الفاظ اور اس کے مفہوم کو واضح فرمائیں (بلال احمد، پاکستان)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن البیہقی کے متعلق الفاظ یہ ہیں: عصابتان من أمتی أحرزہما اللہ من النار: عصابۃ تغزو الہند (السنن الکبری للبیہقی، رقم الحدیث: 17118) یعنی میری امت کے دو گروہ ہیں جن کو اللہ نے آگ سے بچالیا ہے—ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بات بلاشبہہ درست ہے کہ پاکستان کے بعض انتہا پسند لوگ اپنی اُس لڑائی کو اِس روایت کا مصداق سمجھتے ہیں جو انھوںنے انڈیا کے خلاف چھیڑ رکھی ہے۔ مگر یہ سرتا سر ایک بے بنیاد بات ہے۔ پاکستانی لیڈروں نے 1947 سے پہلے دو قومی نظریے کے نام پر ہندوؤں سے نظریاتی لڑائی چھیڑی، مگر وہ اِس میں ہار گئے۔ تقسیم کے بعد جو پاکستان اُن کو ملا، اُس کو قائد پاکستان مسٹر محمد علی جناح نے کٹا پھٹا پاکستان (truncated Pakistan) کہاتھا۔ اِس کے بعد پاکستان نے بار بار انڈیا سے لڑائی کی، مگر وہ ہر بار ناکام رہا— 1948 میں قبائل کے ذریعے کشمیر پر حملہ، 1965 میں باقاعدہ ہندستان پر حملہ، 1971 میں بنگلہ دیش کی لڑائی، اس کے بعد 1999 میں کارگل کی لڑائی، نیز کشمیر میں 1971 کے بعد سے مسلسل طورپر، پراکسی وار(proxy war) کا جنگی سلسلہ جو اب تک جاری ہے۔ اِن تمام جنگوں میں انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کو مکمل طورپر شکست ہوئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس لمبے تجربے سے دو بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے— ایک، یہ کہ اِس حدیث میں ’’غزوۃ‘‘ سے مراد مسلح جنگ نہیں ہے۔ اگر اِس سے مراد مسلح جنگ ہوتی تو مذکورہ جنگ میں مسلمان ضرور کامیاب ہوجاتے۔ دوسری بات یہ کہ اِس حدیث میں ’’عصابۃ‘‘ سے مراد پاکستانی لوگ ہرگز نہیں ہوسکتے۔ کیوںکہ پاکستانی لوگ انڈیا کے خلاف بار بار اقدام کے باوجود یک طرفہ طورپر شکست کھارہے ہیں۔ اِس سے ثابت ہوتاہے کہ اِس معاملے میں پاکستان کو اللہ کی نصرت حاصل نہیں۔
علماء اور اہلِ مدارس کے لیے الرسالہ مشن کی اہمیت کیا ہے۔ براہِ کرم، اِس کو واضح فرمائیں (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جدید تعلیم یافتہ طبقے کے علاوہ، ہمارے دعوتی مشن کے اصل مخاطب علماء اور مدارسِ عربیہ کے لوگ ہیں، کیوں کہ امکانی طورپر وہ قرآن اور حدیث پر مبنی مشن کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ مدارسِ عربیہ کے لوگ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرسکیں۔ سیکولر اداروں میں پڑھے ہوئے لوگ ہمارے دعوتی مشن کو بھر پور طور پر سمجھ نہیں سکتے۔ وہ اُن اصطلاحوں سے مانوس نہیں ہوتے جن میں ہم کلام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ گہرے علمی اور خالص دینی موضوعات پر میں صرف ان لوگوں سے گفتگو کرپاتا ہوں جن کا تعلیمی بیک گراؤنڈ عربی ہو۔ کیوں کہ جن لوگوںکا تعلیمی بیک گراؤنڈ عربی نہ ہو، اُن سے دینی موضوعات پر بات کرتے ہوئے ان کی ایک حد آجاتی ہے اور ان سے گفتگو جاری نہیں رہ پاتی۔اہلِ مدارس کی ڈی کنڈیشننگ کیا ہے، وہ اصلاً صرف ایک ہے، یہ کہ وہ شخصیت پرستی کے خول سے باہر آجائیں۔ وہ چیزوں کو اپنے اکابر کے بجائے اصول کی حیثیت سے دیکھنے لگیں۔ اہلِ مدارس اگر ایسا کرسکیں تو اُن کے لیے اعلیٰ معرفت کا دروازہ پوری طرح کھل جائے گا۔ اہلِ مدارس کو دوسروں کے مقابلے میں، دوچیزیں خصوصی طورپر حاصل رہتی ہیں— ایک، حقائقِ دینیہ سے مانوس ہونا۔ اور دوسرے اصطلاحاتِ دینیہ سے آشنا ہونا۔
مزید یہ کہ حدیث کے مطابق، ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو (أن یکون بصیرا بزمانہ)۔ علماء اور اہلِ مدارس، دینی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے باعث، اسلام کے روایتی علم سے آشنا ہوتے ہیں۔ لیکن عام طورپر وہ اُس صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں جس کو مذکورہ حدیث رسول میں ’’بصیرتِ زمانہ‘‘ کہاگیا ہے، یعنی اپنے زمانے سے باخبر ہونا۔ ایسی حالت میں علماء اور اہلِ مدارس کے لیے ضروری ہے کہ وہ الرسالہ مشن کے تحت تیار کردہ لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ کیوں کہ یہ لٹریچر بصیرتِ زمانہ کی اِسی کمی کی تلافی کے لیے تیار کیا گیاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلم امت کے بحران کے موضوع پر ایک کتاب نگاہ سے گزری۔ میںنے اِس کتاب کو کئی بار پڑھا، مگر اِس کتاب میں متعین طورپر نہ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ کیاچیز ہے جس کو ’’امت کا بحران‘‘ کہاجاتاہے، اور نہ اِس بحران کا کوئی متعین لائحہ عمل اِس کتاب میں پیش کیا گیا ہے۔ پوری کتاب بیانیہ انداز میں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصنف متعین زبان (specific language) میں کلام کرنا جانتے ہی نہیں، وہ صرف طویل اِدّعائی اسلوب کلام سے واقف ہیں۔موجودہ زمانے میں امت کا بحران کیا ہے اور اس بحران سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے، براہِ کرم، اس سوال کی وضاحت فرمائیں۔ (ابوالحکم محمد دانیال، پٹنہ)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مسلم امت کا بحران موجودہ زمانے کا ایک اہم موضوع ہے۔ اِس موضوع کی تحقیق اور اس کی درست توجیہہ ہی کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ دورِ جدید میں امت کے لیے صحیح لائحہ عمل (line of action) متعین کیاجائے۔ اِس لحاظ سے یہ موضوع، احیائِ امت کے لیے بنیادی موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ مسئلہ (problem) زندگی کا لازمی جز ہے۔ جب مسئلہ پیدا ہواور آپ بروقت اس کا درست حل دریافت کرلیں تو مسئلہ آپ کے لیے مسئلہ نہیں رہے گا، بلکہ وہ عملاً آپ کے سفرِ ترقی کا نیا زینہ بن جائے گا۔ اِس کے برعکس، اگر آپ مسئلے کا درست حل دریافت کرنے میں ناکام رہیں تو مسئلہ آپ کے لیے ایک غیر حل شدہ مسئلہ (unsolved problem) بن جائے گا۔ غیر حل شدہ مسئلے سے پیدا ہونے والی اِسی صورت حال کا دوسرا نام بحران (crisis) ہے۔
مسلم امت کے موجودہ بحران کی اصل جڑ یہ ہے کہ دورِ جدید میں مغربی قوموں کی طرف سے اُس کو نئے قسم کے چیلنج پیش آئے۔ اپنے قدیم ذہن کی بنا پر مسلم رہنما اِس چیلنج کی نوعیت کو سمجھ نہ سکے اور غیر ضروری طور پر اپنے روایتی ہتھیاروں کے ذریعے اس سے لڑائی شروع کردی۔ طویل قربانی کے بعد جب اُنھیں اِس جنگ میں ناکامی ہوئی تو اب وہ آخری چارۂ کار کے طور پر مفروضہ دشمن کے خلاف خودکش بم باری کرنے لگے۔ اِس کا نتیجہ تباہی میں اضافے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
اب کرنے کا کام یہ ہے کہ ٹکراؤ کی سیاست کو مکمل طورپر موقوف کردیا جائے اور خالص غیرجانب دارانہ انداز میں پورے معاملے کی ازسرِ نو تحقیق کی جائے اور پھر مبنی بر حقیقت لائحہ عمل طے کیا جائے۔ اِس لائحہ عمل کی درستگی کا معیار صرف ایک ہوگا، اور وہ یہ کہ اس پر عمل کرنے سے مثبت نتیجہ برآمد ہونے والا ہو۔ ٹکراؤ کی سیاست کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے مقصدِ اصلی کو بھول گئے ، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ دعوت الی اللہ مسلم امت کا واحد نشانہ ہے۔ اِسی نشانے کو اختیار کرنے کی صورت میں، اُن کے کام بنیں گے، اور اِس نشانے کو چھوڑنے کی صورت میں، اُن کے تمام کام بگڑ جائیں گے۔ امت کا موجودہ بحران اِسی کا ایک نتیجہ ہے۔