اکثر نوجوانوں کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ انھیں کوئی ایسا شارٹ کٹ (shortcut) مل جائے جس کے ذریعے وہ اچانک کوئی بڑی ترقی حاصل کرلیں، لیکن حقیقی دنیا میں ایسا کوئی شارٹ کٹ موجود نہیں۔ چناں چہ ایسے نوجوانوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی کوئی بڑی ترقی حاصل نہیں کرپاتے۔ اُن کو حقیقت کا علم صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اُن کے لیے کام کرنے کا وقت ختم ہوگیا ہو۔ اِسی حقیقت کو ایک شاعر نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
زیست کا راز کھلا، گردشِ ایام کے بعد اِس کہانی کا تو آغاز تھا، انجام کے بعد
فطرت کے قانون کے مطابق، اِس دنیا میں کوئی بڑی ترقی صرف تدریجی (gradual) طور پر حاصل ہوتی ہے۔ آدمی کو ابتدا میں معمولی کامیابی پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ اِس کے بعد وہ دھیرے دھیرے ترقی کرتے ہوئے بڑی کامیابی تک پہنچتاہے۔ اِس دنیا میں ہر ترقی سے پہلے معمولی کامیابی ہے اور آخر میں بڑی کامیابی۔
ہر نوجوان کو یہ جاننا چاہیے کہ خداکی بنائی ہوئی یہ دنیا اس کی امنگوں (ambitions) پر نہیں چل رہی ہے، بلکہ وہ خود اپنے قوانین پر چل رہی ہے۔ اِس دنیا میں کسی شخص کے لیے کامیابی اور ترقی کا صرف ایک ہی فارمولا ہے، وہ یہ کہ آدمی فطرت کے قانون کو جانے اور اس سے مطابقت کرتے ہوئے وہ آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ اِس کے سوا ہر دوسرا فارمولا بے بنیاد ہے، وہ کسی شخص کو کسی حقیقی انجام تک پہنچانے والا نہیں۔ درخت ہمیشہ بیج سے شروع ہوکر بڑا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اچانک اس کو بڑے بڑے درختوں کا باغ حاصل ہوجائے تو ایسی چھلانگ اِس دنیا میں ممکن نہیں۔ درخت کا سفر جب بھی شروع ہوگا، بیج سے شروع ہو گا ، نہ کہ پورے درخت سے۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ انسان بھی اِس دنیا میں درخت کے مانند بڑھتا ہے۔ درخت گویا کہ فطرت کی طرف سے ایک مظاہرہ (demonstration) ہے جو بتاتا ہے کہ ترقی چاہنے والوں کو ترقی کا سفر کس طرح طے کرنا چاہیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔