انڈیا کے ایک مسلم نوجوان کا واقعہ ہے۔ انھوں نے شہر میں ایک دکان کھولی۔ وہ وہاں بیٹھنے لگے۔ ایک دن اُن کے دادا اُن کی دکان پر آئے۔ اُس وقت مذکورہ نوجوان اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے ایک کتاب پڑھ رہے تھے۔ اُن کے دادا نے ان کے ہاتھ سے کتاب چھین لی اور کہا— یہ دکان ہے، یہ لائبریری نہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ تجارت کا اصول کیا ہے اور تجارت میں کامیابی کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ جب آدمی تجارت کرے تو تجارت ہی کو وہ اپنا سب کچھ بنا لے، وہ تجارت کے سوا ہر دوسری چیز کو ثانوی (secondary) بنا دے۔ یورپ میں مقیم ایک کامیاب تاجر نے اپنے بارے میں کہا کہ جب میں اپنی دکان پر ہوتا ہوں تو اُس وقت میں دوسری ہر چیز کو بھول جاتا ہوں۔ اُس وقت دکان ہی میرا سول کنسرن (sole concern) بن جاتی ہے۔
علم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ — علم تم کو اپنا جز صرف اُس وقت دیتا ہے، جب کہ تم اپنا سب کچھ اُسے دے دو (العلم لا یعطیک جزئَ ہ، حتی تعطیہ کُلَّک)۔ یہ بات تجارت کے بارے میں مزید اضافے کے ساتھ درست ہے۔ علم کو اگر آپ اپنا سب کچھ نہ دیں تو آپ کو صرف جزئی نقصان ہوگا، اور اگر آپ تجارت کو اپنا سب کچھ نہ دیں تو آپ کا سارا سرمایہ ہی ختم ہوجائے گا۔
قدیم زمانے میں، تجارت صرف ایک سادہ کاروبار کی حیثیت رکھتی تھی۔ اُس وقت کوئی شخص جزئی عمل کرکے بھی تاجر بن سکتا تھا، لیکن موجودہ زمانے میں تجارت ایک پیچیدہ کام بن چکی ہے۔ اب تجارت میں کامیابی کے لیے صرف جزئی عمل کافی نہیں۔ موجودہ زمانے کی تجارت اُس میں کلّی شرکت کے بغیر ممکن نہیں، یہ اصول چھوٹے تاجروں کے لیے بھی ہے اور بڑے تاجروں کے لیے بھی۔ جو آدمی تجارت کی اِس شرط کو پورا نہ کرسکتا ہو، اُس کو چاہیے کہ وہ ہر گز تجارت نہ کرے۔ وہ کوئی دوسرا معاشی کام کرے۔ مثلاً کسی ادارے کی ملازمت، وغیرہ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔