پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلّوا کما رأیتمونی أصلی (متفق علیہ؛ مشکاۃ، رقم الحدیث 638 ) یعنی نماز اُس طرح پڑھو جیسا کہ تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ یہ آپ نے نماز کے بارے میں فرمایا۔ لیکن اِسی طرح آپ نے حکومت کے بارے میں نہیں فرمایا کہ— تم میری حکومت کے نمونے کو دیکھو اور تم بھی اُسی طرح حکومت قائم کرو۔ جو الفاظ آپ نے نماز کے بارے میں فرمائے، وہ الفاظ آپ نے حکومت کے بارے میں نہیں فرمائے۔
اِس فرق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فرد کا معاملہ الگ ہے اور ریاست کا معاملہ الگ۔ انفرادی رویہ (individual conduct) کے معاملے میں ہمارے سامنے ایک آئڈیل ماڈل ہے اور وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کاماڈل ہے۔ ہر مومن کو اپنے انفرادی رویے کے معاملے میں معیار پسند (idealist) ہونا چاہئے۔ اس کو ہمیشہ یہ کوشش کرنا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو پیغمبر کے نمونے پر ڈھالے، لیکن سیاسی ڈھانچہ (political set up) کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ سیاسی یا حکومتی ڈھانچے کے معاملے میں ہمیشہ موجود اجتماعی حالات (statusquo)کو دیکھا جائے گا اور اس کی رعایت کرتے ہوئے سیاسی ڈھانچہ بنایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں خلیفہ کے تقرر کے معاملے کا کوئی ایک ماڈل نہیں۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت عمر بن عبد العزیز۔ اسلام میں یہ پانچ معیاری خلفا مانے گئے ہیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، پانچوں کے تقرر کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
بعد کے زمانے کے فقہاء نے دار الاسلام کے نام سے ایک سیاسی ماڈل وضع کیا۔ یہ ایک اجتہادی معاملہ تھا جو درست نہ تھا۔ چناں چہ بعد کے زمانے میں لوگوں نے دارالاسلام کو معیار بنا کر اپنے زمانے کی حکومتوں کو جانچنا شروع کیا اور جب حکومتی نظام کو اس کے مطابق نہیں پایا تو وہ حکمرانوں سے لڑنے لگے۔ اِس قسم کی لڑائیاں بلا شبہہ اسلام کے خلاف تھیں۔ کیوں کہ اسلام میں ڈھانچے کا تعین حالات کے اعتبار سے کیا جائے گا، نہ کہ کسی پیشگی طورپر وضع کردہ معیاری ماڈل سے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔