توفیق الحکیم (وفات: 1987 ) مصر کے معروف ادیب تھے۔ خود اپنے بیان کے مطابق، وہ فکری تضاد میں مبتلا تھے۔ انھوںنے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ: إنی أعیش فی الظاہر کما یعیش الناس فی ہذہ البلاد۔ أما فی الباطن، فما زالت اٰلہتی وعقائدی ومثلی العُلیا۔ کل آلامی مرجعہا ہذا التناقض بین حیاتی الظاہرۃ وحیاتی الباطنۃ (بظاہر میں ایسی ہی زندگی گزار رہا ہوں جیسا کہ عام لوگ اِن شہروں میں زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن میرے باطن میں میرے کچھ معبود وعقائد اور بلند آئڈیلز ہیں۔ میرے سارے کرب کا سبب میری ظاہری اور باطنی زندگی کا یہی تناقص ہے)۔
توفیق الحکیم نے لکھا ہے کہ: إنی لا أستطیع أن أعیش فی جنۃ لا أطّلع فیہا (’’أنا‘‘ لعباس محمود العقّاد، صفحہ 126)یعنی اگر جنت میں مجھ کو اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کا موقع نہ ملا، تو ایسی جنت میں قیام میرے لیے ناممکن ہوجائے گا۔
توفیق الحکیم اور اِس طرح کے دوسرے لوگوں کے ذہن میں جنت کا جو تصور ہے، وہ یہ کہ جنت صرف ایک عیش کدہ ہے۔ ذہین انسان کو اِس قسم کا تصورِ جنت زیادہ اپیل نہیں کرتا، کیوں کہ جسمانی راحت کے علاوہ، انسان کی ایک اور ضرورت ہے، اور وہ عقلی تسکین ہے۔ ہمارے علماء اور واعظین عام طورپر جنت کا جو تصور دیتے ہیں، اُس میں یہ ہوتا ہے کہ جنت میں آرام وراحت کا سامان تو وافرمقدار میں ہوگا، لیکن وہاں عقل ودانش کی تسکین کا کوئی سامان نہیں ہوگا۔ جدید ذہن کو جنت کا یہ تصور اپیل نہیں کرتا۔ وہ اس کو اپنی حقیقی طلب سے کم تر سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جنت میںآرام وراحت کا سامان تو صرف اہلِ جنت کی ضیافت کے لیے ہوگا۔ اہلِ جنت کا اصل مشغلہ تو یہ ہوگا کہ وہ کلمات اللہ (31: 27)کو اَن فولڈ کرکے ایک بر تر تہذیب (super civilization) کو وجود میں لائیں گے۔ یہ ایک ربانی تہذیب (divine civilization)یہ ایک پر مسرت ذہنی اور فکری سرگرمی (intellectual activities)کا دور ہوگاجو ابدی طورپر جاری رہے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔