خواجہ کلیم الدین صاحب امریکا میںرہتے ہیں۔ وہ ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ ہیں۔ وہ امریکا میں بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ پھیلارہے ہیں۔ دوسرے مختلف اشاعتی طریقوں کے علاوہ، اُن کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعہ لوگوں کے پتے حاصل کرتے ہیں۔ وہ اُن سے ٹیلی فون کے ذریعے ربط قائم کرتے ہیں۔ پھر وہ پوسٹ کے ذریعے لوگوں کو انگریزی ترجمہ قرآن کے نسخے بھیجتے ہیں۔ بذریعہ پوسٹ قرآن بھیجنے کا یہ سلسلہ برابر جاری رہتا ہے۔
خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر کے پاس جو پوسٹ آفس ہے، اس کے کارکن باربار کے تجربے کے بعد خواجہ کلیم الدین صاحب کو قرآن مین (Quran man) کہنے لگے ہیں۔ پوسٹ آفس والوں کے لیے یہی خواجہ کلیم الدین کی پہچان بن گئی ہے۔ خواجہ کلیم الدین صاحب جب قرآن کے پیکٹ لے امریکا کے مقامی کر پوسٹ آفس میں جاتے ہیں تو اُن کو دیکھ کر پوسٹ آفس کے کارکن کہتے ہیں کہ — دیکھو، قرآن مین آگیا:
Here comes the Quran man.
یہ گویا تاریخ کا اعادہ ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن نازل ہوا، اُس وقت اصحابِ رسول کا طریقہ یہ تھا کہ وہ عرب کے اندر اور عرب کے باہر لوگوں سے مل کر اُن کو قرآن سنانے لگے۔ وہ قرآن کے مُقری (پڑھ کر سنانے والے) بن گئے۔ یہ پرنٹنگ پریس کے زمانے سے قبل کی بات ہے۔ اب پرنٹنگ پریس کے زمانے میں داعی کو قدیم طرز کا مقری نہیں بننا ہے، بلکہ اس کو قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributer) بننا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں یہی داعی کی شناخت تھی۔ اکیسویں صدی عیسوی میں بھی یہی داعی کی شناخت ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ پچھلے دور میں اُن کو مقری قرآن کا لقب ملا تھا۔ اب موجودہ دور میں اُن کو قرآن مین کہاجاتا ہے۔ یہ دور کا فرق ہے، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کا فرق۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.