← Al-Risala August 2020Al-Risala August 2020
مسلم ملٹنسی کا مسئلہ
Urdu · 3 min read
پہلی عالمی جنگ (world war I)کے بعد روس میں کمیونسٹ رول (communist rule)قائم ہوا۔ اِس رول کا نشانہ اوّل دن سے یہ تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کیا جائے۔ اِس کے نتیجے میں امریکا میں عام طورپر یہ ذہن بن گیا کہ — کمیونزم، امریکا کا دشمن نمبر ایک ہے:
Communism is the enemy no. 1 of America.
امریکا نے اِس چیلنج کامقابلہ اتنی کامیابی کے ساتھ کیا کہ 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کا خاتمہ ہوگیا۔ دوسری طرف، مسلمانوں کی ملٹنٹ (militant) تنظیمیں، القاعدہ وغیرہ، نے امریکا کو اسلام کا دشمن نمبر ایک بتایا اور امریکا کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کردی، جس کی ایک نمایاں مثال 11 ستمبر 2001 کا واقعہ ہے جو نیویارک میں پیش آیا۔ امریکا نے مسلم ملٹنسی (militancy) کے خلاف زبردست فوجی کارروائی کی، حتی کہ اِس کارروائی میں اُس نے 5ٹریلین ڈالر خرچ کردئے، لیکن مسلم ملٹنسی کے محاذ پر امریکا کو مطلوب کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
اِس فرق کا سبب کیا ہے، اِس فرق کا سبب یہ ہے کہ امریکا نے کمیونسٹ چیلنج کا مقابلہ فکری سطح پر کیا۔ اُس نے مختلف زبانوں میں کمیونزم کے خلاف ہزاروں کتابیں چھپواکر ساری دنیا میں پھیلا دیں۔ مثال کے طورپر ملوون جیلاس (Milovan Djilas) کی کتاب نیو کلاس (The New Class) ۔ یہ کتاب نظریاتی اعتبار سے اتنی طاقت ور تھی کہ اس کے بارے میں مشہور امریکی میگزین ریڈرس ڈائجسٹ میں تبصرہ چھپا تو اس کا عنوان یہ تھا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The Book that is Shaking the Communist World.
کمیونسٹ چیلنج کے خلاف امریکا کی یہ فکری لڑائی پوری طرح کامیاب رہی، لیکن امریکا نے اپنے اِس تجربے کو مسلم ملٹنسی کے معاملے میں استعمال نہیں کیا۔ یہاں اس نے برعکس طور پر فوجی طاقت کے ذریعے مسلم ملٹنسی کو مٹانے کی کوشش کی، لیکن وہ اِس میں کامیاب نہ ہوسکا۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم ملٹنسی گن ورسز گن (gun vs gun) کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ گن ورسز آئڈیالوجی (gun vs ideology) کا مسئلہ ہے۔ مسلم ملٹنسی ایک معلوم آئڈیالوجی پر کھڑی ہے، اِس لیے مسلم ملٹنسی کو ختم کرنے کے لیے اِس آئڈیالوجی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ یہ آئڈیالوجی کیا ہے۔ یہ دراصل اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) ہے۔ اسلام کی سیاسی تعبیر مکمل طورپر ایک سیاسی بدعت ہے۔ موجودہ زمانے کے کچھ مسلم رہنماؤں نے اپنی تفسیر ِقرآن اور اپنے لٹریچر میں اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کی۔ یہ سیاسی تعبیر موجودہ زمانے کے مسلم مائنڈ کے لیے بہت موافق تھی، اِس لیے انھوں نے اس کو اختیار کرلیا اور جہاد کے نام پر وہ اپنے متشددانہ عمل کو اِس نئی سیاسی تعبیر کے ذریعے درست ثابت کرنے لگے۔
مسلم ملٹنسی کا جواب پُرامن نظریاتی سطح پر دینا پوری طرح ممکن ہے، مسلمان اپنی موجودہ ملٹنسی کو اسلام کے نام پر چلا رہے ہیں۔ اِس طرح وہ خود ایک ایسا معیار (criterion) دے دیتے ہیں جس کو استعمال کرکے اُس کو رد کیا جاسکے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ ملٹسنی، اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں، مکمل طورپر ایک غیر مبرَّر ملٹسنی (unjustified militancy) ہے۔ اسلام میں ملٹنسی یا جنگ کوئی ایجابی عمل نہیں، اسلام میں صرف دفاع کے وقت اضطراری طور پر جنگی طریقے کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ دوسری بات یہ کہ اسلام میں جنگ استثنائی طورپر صرف ایک باقاعدہ حکومت کے لیے جائز ہے، غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے لیے صرف دو میں سے ایک آپشن ہے— یا تو وہ خاموش رہیں یا خالص پرامن ذرائع سے اپنی بات لوگوں تک پہنچائیں۔ اِس اصول کی بنا پر گوریلا وار یا پراکسی واریا اور کوئی غیر حکومتی وار اسلام میں جائز نہیں۔
اسلام ایک مشن ہے۔ اسلام کا منشا یہ ہے کہ اس کی مذہبی اور روحانی اور اخلاقی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچایا جائے۔ یہ ایک خالص پُرامن مشن ہے، اس میں کسی بھی مرحلے پر ہتھیار کا استعمال جائز نہیں۔ یہ بھی اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے کہ کوئی گروہ عدل (justice) کے حصول کے نام پر کسی کے خلاف جنگ چھیڑ دے۔ اسلام میں عدل کا حصول صرف پرامن کوشش کے ذریعے ہوتا ہے، نہ کہ جنگ اور تشدد کے ذریعے— اسلام پورے معنوں میں امن کا مذہب ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے جنگ کا مذہب نہیں۔