← Al-Risala August 2020Al-Risala August 2020
فتویٰ اور فتویٰ ایکٹوزم
Urdu · 5 min read
فتویٰ کے لفظی معنٰی ہیں— رائے (opinion) ۔ ایک شخص اپنے کسی ذاتی مسئلے کے بارے میں ایک عالم سے اس کی رائے پوچھے اور وہ عالم اپنے علم کے مطابق، اِس مسئلے کے بارے میں شرعی رائے دے، تو اِسی کا نام فتویٰ ہے۔ اسلام کے دورِ اوّل میں اِسی قسم کے فتوے کا رواج تھا۔ موجودہ زمانے میں فتویٰ کی جو توسیع (extention)ہوئی ہے، وہ ایک قسم کی بدعت ہے۔
فتویٰ، اسلام میں قضاء کی طرح، کوئی انسٹی ٹیوشن (institution) نہیں، وہ کسی مسئلے میں صرف ایک عالم کی رائے کااظہار ہے۔ کوئی انسان اگر کسی دوسرے شخص یا کسی دوسری جماعت کے بارے میں فتویٰ پوچھے، تو یہ فتویٰ کا غلط استعمال ہوگا۔ اِس قسم کے استفتاء کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ برائی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اصلاحی فتویٰ، اسلام میں کوئی چیز نہیں۔ اسلام میں اصلاح کا طریقہ نصیحت اور تبلیغ ہے، نہ کہ فتویٰ جاری کرنا۔
آج کل یہ حال ہے کہ مسلم معاشرے میں کسی خرابی کے حوالے سے فتوے جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیںہے، بلکہ فتویٰ ایکٹوزم (Fatwa Activism) ہے۔ اب چوں کہ میڈیا کا زمانہ ہے، اِس قسم کے فتوے میڈیا میں جگہ پاکر اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ فتویٰ ایکٹوزم کا نقصان تو ضرور ہے، لیکن اُس کا کوئی مثبت فائدہ نہیں۔
صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اِس طرح کے معاملے میں فتویٰ پوچھنے والے اور مفتی دونوں مصلح کا کردار ادا کریں۔ وہ غلطی میں مبتلا لوگوں کے لیے دعا کریں، وہ ہمدردی کے ساتھ ان کو نصیحت کریں، وہ اُن سے مل کر معلوم کریں کہ ان کی سوچ کیا ہے، ان کا ذہن کہاں اٹکا ہوا ہے اورپھر ان سے اِس طرح کلام کریں جس سے ان کا ذہن ایڈریس ہو، ان کے اندر نئی سوچ جاگے، وہ اپنی زندگی کو بدلیں اور اپنی اصلاح کریں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے اسلام میں تبلیغ ونصیحت کا طریقہ ہے، نہ کہ فتویٰ جاری کرنے کا طریقہ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایسے کام کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں جس کام کو انھوں نے کیا ہی نہیں (آلِ عمران: 188) ۔ قرآن کی یہ آیت موجودہ زمانے کے فتویٰ پوچھنے والے اور فتویٰ دینے والے دونوں طرح کے لوگوں پر صادق آتی ہے۔ یہ لوگ کسی دوسرے کی برائی کو بتا کر اُس کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ عین وہی روش ہے جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیت میں کیا گیا ہے، یعنی وہ فتوے جاری کرکے اصلاح کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، حالاں کہ اصلاح کا کریڈٹ صرف اُس انسان کے لیے مقدر ہے جو ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ نصیحت کا فریضہ انجام دے۔
فتویٰ ایکٹوزم کی سب سے زیادہ ناپسندیدہ صورت وہ ہے جس کو تکفیر کہا جاتا ہے، امام نووی (وفات:1277 ء) نے لکھا ہے کہ: واعلم أن مذہب أہل الحق أنہ لایکفّر أحد من أہل القبلۃ (صحیح مسلم بشرح النووی، جلد 1، صفحہ 150)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یعنی علمائِ حق کا یہ مسلک ہے کہ اہلِ قبلہ میں سے کسی شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تکفیر کا طریقہ سرے سے اختیار نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہوسکتا جو کعبہ کے سوا کسی اور چیز کو اپنا قبلۂ عبادت بنالے۔
اسلام کی تاریخ میں تین دور کو ’’قرون مشہود لہا بالخیر‘‘ کہاگیا ہے، یعنی — دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعین۔ یہ تین دور اسلام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ اِن تینوں دور میں فتویٰ ایکٹوزم یا تکفیر کا طریقہ کبھی اختیار نہیں کیا گیا ۔ یہ طریقہ بلاشبہہ اسلام کے ماڈل سے انحراف کے ہم معنی ہے۔
اسلام کے دورِ اول میں سارا زور نصیحت وتبلیغ پر دیا جاتا تھا، کیوں کہ مطلوب نتیجہ صرف نصیحت و تبلیغ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ فتویٰ جاری کرنے سے۔ کسی شخص یا اجتماعی بگاڑ کو لے کر اس کے خلاف فتویٰ دینا، اُس وقت شروع ہوا جب کہ مسلمانوں میں دعوت وتبلیغ کا ذہن ختم ہوگیا۔ لوگ برائی کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کو کافی سمجھنے لگے۔ یہ طریقہ بلا شبہہ قابلِ ترک ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ طریقہ صرف منفی نتیجہ پیدا کررہا ہے، اور جو طریقہ منفی نتیجہ پیدا کرے، وہ بلاشبہہ اِس قابل ہے کہ اس کو مکمل طورپر ترک کردیا جائے۔
نصیحت اور تذکیر (admonition)کے اِس طریقے کو آج کل کی زبان میںایجوکیشنل ایکٹوزم (educational activism)کہا جاسکتا ہے، یعنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کرنا، لوگوں کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اصلاحِ معاشرہ کے بارے میں اسلام کا اصول ایجوکیشنل ایکٹوزم پر مبنی ہے نہ کہ فتویٰ ایکٹوزم پر۔
اِس معاملے میںایک رہنما مثال وہ ہے جس کا ذکر صحیح البخاری میںآیا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں قرآن کی جو آیتیں اُتریں، ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا، تاکہ لوگوں کے دلوں میں اسلام کے بارے میںنرم گوشہ پیداہو اور لوگوں کے اندر ذہنی آمادگی آجائے۔ اِس طرح جب قبولیت (acceptance)کی استعداد پیدا ہوگئی تو اس کے بعد قرآن میں اترا کہ زنا چھوڑ دو، اور شراب چھوڑ دو۔ ایسا حکم اگر پہلے اُترتا تو لوگ اس کی تعمیل نہ کرتے، بلکہ وہ یہ کہتے کہ —ہم تو زنا نہ چھوڑیں گے، ہم تو شراب نہ چھوڑیں گے (لاندع الزنا أبداً، ولا ندع الخمرأبداً)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سے معلوم ہوا کہ عمومی اصلاح کا کام فتویٰ یا حکم جاری کرنے سے نہیں ہوتا، بلکہ اِس کام کے لیے سب سے پہلے لوگوں کے اندر قبولیت کی استعدادپیدا کی جاتی ہے، اِس کے بعد ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ استعداد پیدا کیے بغیر حکم دینا، کسی بھی درجے میں مسئلے کا کوئی حل نہیں۔