خود کش بم باری (suicide bombing) فلسطین میں عربوں نے اسرائیل کے خلاف شروع کی۔ اُس وقت کچھ علماء نے اس کو جائز قرار دیا اور کچھ علماء اس پر خاموش رہے۔ بروقت کسی نے اس کے حرام ہونے کا اعلان نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ برائی پھیلتی رہی، اور اب دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان خودکش بم باری کے واقعات کررہے ہیں۔ حالاں کہ خودکشی اسلام میں سر تاسر حرام ہے، کوئی بھی عذر اس کو جائز قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ خود کش بم باری کو جائز قرار دینے کے لیے جو دلیلیں دی جاتی ہیں، اُن میں سے ایک مشہور دلیل ’’الانغماس فی العدوّ‘‘ کی ہے، یعنی دشمن کی صفوں میں گھس پڑنا:
To plunge into enemies.
’’انغماس فی العدو‘‘ کے حق میں ایک واقعہ بیان کیا جاتاہے۔ حضرت ابو بکر صدیق کے زمانہ خلافت میں ایک جنگ پیش آئی۔ یہ جنگ مدعیٔ نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف تھی۔ اِس جنگ میںایک صحابی براء بن مالک خزرجی شریک تھے۔ وہ ایک غیر معمولی بہادر آدمی تھے۔ ایک موقع پر وہ تنہا دشمن کی فوج کے اندر داخل ہوگئے اور اپنا کام پورا کرکے محفوظ واپس آگئے( تفصیل کے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’مسائلِ اجتہاد‘‘، صفحہ 105 )۔
اِس واقعے سے خود کش بم باری کا جواز ہر گز ثابت نہیں ہوتا۔ انغماس فی العدو کا مطلب ہے خطرہ مول لے کر دشمن کی صفوں میں گھس جانا۔ اور خود کش بم باری کا مطلب ہے، اپنے آپ کو ہلاک کرکے مفروضہ دشمن یا اس کی قوم کے افراد کو جانی اور مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا۔
اِس قسم کا کمزور استدلال صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو نہ جانتے ہوں، جب کہ حقیقی استدلال کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اِس اصول کو پوری طرح جانے۔ اِس اصول سے بے خبری کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی بطور خود ایک دلیل پیش کردے گا، حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف الفاظ کا مجموعہ ہوگا، نہ کوئی واقعی دلیل۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.