Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala August 2020
Al-Risala August 2020

سوال وجواب

Urdu · 5 min read

دو سوالات کے جواب مطلوب ہیں۔ ایک یہ کہ ماہ نامہ الرسالہ، جون 2007 میں آپ نے اپنے ایک مضمون میں ’’مسیحی ماڈل کی واپسی‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ اِس سے آپ کی مراد کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ آپ نے اپنی تحریروں میں کئی مقامات پر اعلیٰ بصیرت اور پریکٹل وزڈم (practical wisdom) کی باتیں لکھی ہیں۔ برائے کرم مثال کے ذریعے اس کو واضح فرمائیں (عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر)

1 - قیامت سے پہلے مسیح کی آمد ثانی کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، اُس سے مراد غالباً مسیحی ماڈل کی آمد ثانی ہے، نہ کہ جسمانی معنوں میں پیغمبر مسیح کی آمد ثانی۔ یہ مسیحی ماڈل قرآن میں بھی مذکور ہے اور انجیل میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ یہ مسیحی ماڈل، قرآن اور انجیل دونوں کی تصریحات کے مطابق، یہ ہے کہ یک طرفہ صبر کے ذریعہ غیر سیاسی انداز میں پرامن طورپر دعوت الی اللہ کا کام کرنا۔ یہی مسیحی ماڈل ہے اور اِس کو تاریخ میں دوبارہ واپس آنا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسیحی ماڈل وہی ہے جس کو مکی ماڈل کہاجاتا ہے۔ مسیحی ماڈل کی واپسی دراصل خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی ماڈل کی واپسی ہے۔ مگر بعد کے زمانے میں پیغمبر اسلام کے حوالے سے یہ ماڈل مسلمانوں کے لیے قابلِ دریافت نہیں رہے گا۔غالباً اسی لیے آپ نے اس کی واپسی کو مسیح کی واپسی سے تعبیر کیا۔ مسیحی ماڈل دراصل خود پیغمبراسلام کی جامع زندگی کاایک پہلو ہے، نہ کہ اس سے الگ یا اُس سے مغائر کوئی پہلو۔

حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اور خود قرآن میںیہ مکی ماڈل واضح طورپر موجود ہے۔ لیکن بعد کو یہ ہوا کہ مسلم علماء نے بطور خود یہ سمجھ لیا کہ ہجرت کے بعد اب مکی ماڈل منسوخ ہوچکا ہے اور اب صرف مدنی ماڈل کی پیروی مسلمانوں سے مطلوب ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلم علماء نے جو کتابیں لکھیں، وہ عام طور پر اِسی مفروضہ کے تحت لکھی گئیں، یہاں تک کہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھ لیا گیا کہ مدنی ماڈل ہی اب مطلوب معیاری ماڈل ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کو جس ماڈل کی پیروی کرنا ہے، وہ صرف مدنی ماڈل ہے، بالفاظِ دیگر حاکمانہ ماڈل۔ لمبی تاریخی روایت کے نتیجے میں اب یہ صورت حال پیدا ہوچکی ہے کہ مسلم ذہن پیغمبر اسلام کے حوالے سے اس ماڈل کو سمجھ نہیں پاتے، اِس لیے اِس کو مسیحی ماڈل کے حوالے سے مسلمانوں کے سامنے لایا گیا۔ کیوں کہ بعد کے زمانے میں مکی ماڈل مسلمانوں کے ذہن سے اوجھل ہوگیا اور صرف مدنی ماڈل ان کے زندہ حافظے میں باقی رہا، جب کہ مسیحی ماڈل پر دوسرا مرحلہ پیش نہیںآیا۔ مسیح کے یہاں اول بھی مکی ماڈل تھااور آخر بھی مکی ماڈل۔

2 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا: لافضل لعربی علی عجمی ولا لأحمر علیٰ أسود (کسی عربی کو کسی عجمی کے اوپر کوئی فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں) اِن الفاظ میں بظاہر مطلق مساوات کا اعلان تھا، لیکن آپ کی وفا ت کے بعد جب خلافت کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کو الائمۃ من قریش (مسند احمد، رقم الحدیث: 12657)کی بنیاد پر حل کیاگیا۔ یہ فعل واضح طورپر آئیڈیل مساوات کے خلاف تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أمرہم شوریٰ بینہم (اہلِ ایمان کے معاملات اجتماعی مشورے سے طے ہوتے ہیں) الفاظ کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک مطلق اصول ہے، لیکن خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر نے خلیفۂ ثانی حضرت عمر کے تقرر میں اِس تعلیم کے خلاف عمل کیا۔ انھوں نے اپنے بعد خلیفہ ثانی کے لئے نام زدگی (nomination) کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے رائے عامہ کے بغیر بطورخود حضرت عمر کی خلافت کا اعلان کردیا۔ یہ واقعہ واضح طورپر مذکورہ قرآنی اصول کے خلاف تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کے سوال پر مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف ہوا۔ انصار کا یہ کہنا تھاکہ: منا أمیر ومنکم أمیر (ایک امیر مہاجر ین میںسے اور ایک امیر انصار میںسے)۔بحث کے بعد آخر کار یہ طے ہوا کہ مہاجرین میں سے امیر ہوں اور انصارمیں سے وزیر (نحن الأمراء وأنتم الوزراء)۔ لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا اور حضرت عمر فاروق نے اپنے آخری زمانے میں کہا کہ ہم نے انصار سے وعدہ کیا تھا کہ ہم خلافت کے کام میں ان کو وزیر بنائیں گے، لیکن ہم ایسا نہ کرسکے (واللہ ما وفینا لہم کما عاہدناہم علیہ۔ مسند البزّار، رقم الحدیث: 291)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام کے دور اول کی تاریخ میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں۔ یہ واقعات بظاہر یہ بتاتے ہیں کہ اسلام میں اصول اور عمل کے درمیان تضاد ہے، مگر یہ بات درست نہیں۔ یہ فرق خودایک اور مستقل اصول کے تحت پیش آیا— اصول کا تعین ہمیشہ معیار (norm) کی روشنی میں ہوتا ہے، لیکن جب عملی بندوبست (practical settlement) کا معاملہ ہو تو اُس وقت ایک اور اصول اختیار کیا جاتا ہے۔ اُس وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ عملی اعتبار سے کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصول کا تعین ایک مجرد(abstract) معاملہ ہے، اِس لئے اصول کے تعین کے وقت خالص نظری پہلو کا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ لیکن عملی بندوبست کا تعلق سماج کی واقعی صورت ِ حال سے ہوتا ہے۔ اِس لئے عملی بندوبست کے وقت ضروری ہوتاہے کہ یہ دیکھا جائے کہ موجودہ صورت حال کے مطابق کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔

مذکورہ مثالوں کے درمیان بظاہر جو فرق نظر آتاہے، وہ اِسی اعلیٰ بصیرت کی بنا پر ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کہاجاتا ہے۔ جو لوگ اصولی معیار اور پریکٹکل وزڈم کے فرق کو نہ جانیں، وہ ذہنی اعتبار سے کنفیوژن (confusion) کا شکار ہوجائیںگے اوروہ عملی اعتبار سے ایسا اقدام کریں گے جو حالات میں مزید خرابی پیدا کرے اور نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) بن کر رہ جائے — عملی رویّے کا فیصلہ ہمیشہ واقعی صورتِ حال کی بنا پر کیا جاتا ہے، نہ کہ مجرد اصولی معیار کی بنیاد پر۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content