← Al-Risala August 2020Al-Risala August 2020
خبرنامہ اسلامی مرکز — 204
Urdu · 8 min read
1 - میں الرسالہ کا ایک قدیم قاری ہوں اور 12 اپریل 2010 آپ کے گھر پر مولانا محمد مصطفی عمری کے ہمراہ آپ سے نصیحت آموز ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ آپ کے ساتھ میں نے مغرب کی نماز بھی ادا کی تھی۔ قیمتی وقت دینے کے لئے آپ کا شکریہ۔مولانا محمد ذکوان ندوی سے تعارف کے دوران میںنے بتایا تھا کہ ممبئی کے اہم مقام چرچ گیٹ اسٹیشن پر واقع بُک اسٹال پر میں پچھلے دو سالوں سے آپ کا ترجمہ قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر فروخت (sale) کے لئے رکھوا کر آپ کے مِشن میں کام کررہا ہوں۔ اس اسٹیشن پر روزانہ لاکھوں لوگ آتے اور جاتے ہیں۔ قرآن کے تقریباً 300 ترجمے یہاں سے بِک چکے ہیں جس میں 90% خریدار غیر مسلم حضرات ہیں۔ یہ کام میں جاوید بھائی (ICRA) کے تعاون سے کررہا ہوں۔(محمد اسلم چوغلے، ممبئی)
2 - شانتی گری رسرچ فاؤنڈیشن (مالویہ نگر، نئی دہلی) کے تحت نہرو آڈیٹوریم (تین مورتی ہاؤس) میں 21 اپریل 2010کو ایک سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا:
National Workshop on Sustainable Development: Building Alternatives.
اِس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس کی ٹیم کے 6 افراد کے ساتھ اس میں شرکت کی۔ اور موضوع پر انگریزی زبان میں آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ اِس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا۔
3 - ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کی نمائندہ مز سکینہ خان (Deputy Editor Editorial) نے 4 مئی 2010 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ اسلام میں ماں کا درجہ کیا ہے۔ اِس سلسلے میں انھیں قرآن اور حدیث کے ضروری ریفرنس میں اسلامی تعلیمات بتائی گئیں۔ اِس کے علاوہ ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتاب Woman in Islamic Shari’ah مطالعے کے لیے دی گئی۔
4 - مئی کا الرسالہ نظر نواز ہوا۔ کافی تحقیق اور وسیع مطالعہ کا نتیجہ لگتا ہے۔ خروجِ دجّال اور یاجوج وماجوج، ظہور مہدی اور نزولِ مسیح جیسے پیچیدہ اور اختلافی مسائل پر آپ نے نہایت ہی عالمانہ اور محققانہ مدلّل ومسبوط نظریہ پیش کیا ہے، جو نہ مافوق الفطرت لگتا ہے اور نہ ہی دیومالائی یا طلسماتی قصہ، بلکہ یہی نظریہ فطرت سے مطابقت بھی رکھتا اور ممکن الوقوع بھی ہے۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مسلم علماء اس کو پسند فرمائیں گے یا قبول کریں گے۔ کیوں کہ اس سلسلہ میں وہ اپنے روایتی بند خول سے باہر نہیں نکلنا چاہتے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے اس جرأت مندانہ پیشکش اور اقدام کی وجہ سے آپ کو مطعون کیاجائے۔ (سید ناصر ندیم ، کشمیر)
5 - طالب علمی کے زمانے ہی سے اگر میں کسی مشن سے واقف ہوا تو وہ الرسالہ مشن ہے۔ شہر بھوپال میں الرسالہ کی تقسیم سے میرا آغاز ہوا۔ یہ کام مجھے میرے استاذ ڈاکٹرحمید اللہ ندوی نے سونپا تھا۔ اس وقت میں زیادہ نہیں سمجھتا تھا، مگر جو کام مجھے دیا جائے اسے کرنا ہی میرا طریقہ تھا جو کہ آج تک جاری ہے۔ اب یہی کام میں مدھیہ پردیش کے شہر دیواس میں کررہا ہوں۔ میرا اندازہ ہے کہ 1977 ء یا 1978 ء میں بھوپال سے میں نے یہ کام شروع کیا۔ اور دھیرے دھیرے یہ سمجھنے لگا کہ الرسالہ صرف ایک پرچہ نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا مشن ہے جس میں امت کے لیے دین و دنیا کا راز پوشیدہ ہے۔مولانا وحیدالدین خاں صاحب موثر انداز میں مسلمانوں کو زندگی کے راز بھی بتا رہے تھے اور ان کے اندر دینی روح بھی زندہ کررہے تھے۔984 1ء میں میں نے اپنے وطن دیواس میں کام شروع کیا۔ اپنے استاذ مولانا ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے ساتھ عملاً میں یہ دیکھ چکا تھا کہ غیر مسلم افراد سے بھی اپنائیت کا رشتہ قائم کیا جاسکتا ہے- میں اسی راستے پر چلا اور آج اپنے شہر میں آرایس ایس کے مکھیا کے کالج کا ایک بااختیار فرد ہوں اور شہر میں آرایس ایس کے آل انڈیا سرسنچالک ایک بار آئے تو ان سے میری ملاقات کرائی گئی۔ اور ان اصحاب کے زیادہ تر پروگراموں میں مجھے بولنے کے لئے کہاجاتا ہے۔ نیز شہر میں جب حالات کچھ گڑ بڑ ہوئے ہیں، انھیں درست کرنے میں مجھے آگے رکھا جاتا ہے۔ دیواس کے قریب اندور اور اجین میں بھی ہمارے آدمی کام کرتے ہیں۔ اور بھوپال کی سرگرمیوں میں بھی میں ہر طرح سے شریک ہوں۔حضرت مولانا کے سفر بھوپال کے ہر پروگرام میںایک کارکن کے طورپر میری شرکت ہوئی ہے۔ چند سال قبل اس مشن کی مخالفت کرنے والے حیدرآباد کے ایک شخص نے مجھے حضرت مولانا کے خلاف ورغلانے کے لئے ایک خط لکھا، اور حضرت مولانا کے خلاف لکھی ہوئی اپنی کتابیں بھیجیں۔ مگر اللہ کی مہربانی سے میں نے انھیں جواب لکھا اور پھر خطوط کے تبادلہ کا لمبا سلسلہ چلا اور اخیر میں وہ خاموش ہوگئے اور میرے واضح دلائل کا نہ تو جواب دے سکے اور نہ انھیں توبہ کی توفیق نصیب ہوئی۔ ایسے واقعات میرے اِس یقین کو بڑھاتے ہیں کہ مشن کے مخالفین ہٹ دھرمی کے خول کو کسی طرح نہیں توڑ پارہے ہیں۔اس مشن کو جس حد تک میں سمجھا ہوں، اس میں اہم بات یہ ہے کہ امت اپنے ز وال پذیر حالات میں ایسی رہنمائی سے محروم تھی جو اسے تعمیر وترقی کی مثبت فکرطاقتور انداز میں دے سکے اور احساس شکست کے تحت خود کُش اقدامات کو عقل واسلام کے خلاف ثابت کرسکے۔ موجودہ زمانے میں یہ کام صرف اور صرف اعلیٰ ترین سطح پر عصری اسلوب میں مولانا کی تحریروں نے انجام دیا۔ مجھے ہندی علاقہ اور ہندی ماحول میںکام کرنا ہوتا ہے جہاں اردو کی زیادہ کتب نہیں پڑھوائی جاسکتی ہیں۔ ہم مخصوص تحریروں کو ہندی میں پھیلاتے ہیں اور میٹنگوں میں اس کو پڑھ کر سناتے ہیں۔ اردو تحریریں بھی سناتے ہیں۔ اب تک کا تجربہ یہ ہے کہ سنجیدہ ذہن والوں کو لگتا ہے کہ آخری حد تک صبر و برداشت کی تعلیم ہی اسلام کی اصل تعلیم ہے اور حالات کو پر امن بنانے کے لیے آخری حد تک ہمیں اپنا رول ادا کرنے کے بعدہی وہ مواقع میسر آتے ہیں جو ہمارے لیے اسلام کی دعوت اور اپنی ترقی کے راستے کھولتے ہیں۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہماری ساری زندگی ہر قسم کی بے احتیاطیوں سے بچتے ہوئے اس مشن کی تکمیل میں لگی رہے۔(عبد الحمید، دیواس، مدھیہ پردیش)
6 - پنگوئن بکس (Penguin Books)ایک معروف انٹرنیشنل پبلشنگ ادارہ ہے۔ اس نے صدر اسلامی مرکزکی ایک انگریزی کتاب چھاپی ہے، اس کتاب کا نام یہ ہے:
The Prophet of Peace
یہ کتاب دو سال پہلے تیار ہوئی تھی۔ عرب نیوز (جدہ) کے ایڈیٹر مسٹر سراج وہاب کو اِس کتاب کا مسودہ دکھایاگیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتاب اِس نام کے ساتھ انگریزی دنیا میں چلنے والی نہیں ہے۔ آپ اس کو پھر سے مرتب کیجئے اور اس کا نام یہ رکھئے :
Why Binladen was Wrong?
مگر یہ ٹائٹل ہمارے ذوق کے مطابق نہ تھا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ پاکستان کے ہندستانی سفارت خانے کے ایک ہندو افسر کی ملاقات لاہور کے مولانا جاوید احمد غامدی سے ہوئی۔ غامدی صاحب نے اُن سے صدراسلامی مرکز کاتعارف کرایا۔ اس کے بعد مذکورہ ہندو افسر اور ان کی اہلیہ رنجنا سین گپتا دہلی میں ان سے ملاقات کے لیے آئے۔ یہ خاتون دہلی کے پنگوئن آفس کی انچارج ہیں۔ اُن سے مذکورہ کتاب کا ذکر ہوا تو وہ اس کا مسودہ پڑھنے کے لیے اپنے ساتھ لے گئیں۔ پڑھنے کے بعد انھوں نے کہا کہ پنگوئن اِس کتاب کو چھاپنے کے لئے تیار ہے۔ اِس طرح یہ کتاب دسمبر 2009میں پنگوئن کی طر ف سے شائع ہوئی۔
صدر اسلامی مرکز کی کتاب (The Prophet of Peace) کو لوگ غیر معمولی طورپر پسند کررہے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر جنرلسٹ مسٹر گوتم سدھارتھ نے اِس کتاب کو کسی بک سیلر سے خرید کر حاصل کیا اور اس کو پڑھا۔ اِس کو پڑھنے کے بعد انھوںنے مسٹر رجت ملہوترا سے کہا:
This book gives a new understanding of Islam, it is like a paradigm shift. It is a well-documented book.
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے مسلح جہاد نے اسلام کی تصویر یہ بنادی تھی کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے، اور پیغمبر اسلام تشدد کے پیغمبر ہیں۔ یہ کتاب اِس غلط فہمی کو ختم کرتی ہے اور خالص علمی انداز میں یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور پیغمبر اسلام امن کے پیغمبر ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ موجودہ زمانے میں یہ اسلامی دعوت کی نسبت سے ہونے والا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ موجودہ زمانے میں عالمی میڈیا نے ساری دنیا میں اسلام کی متشددانہ تصویر بنادی تھی۔ یہ کتاب اِس تصویر کو مکمل طورپر بدل رہی ہے۔ اِس کتاب کا انٹرنیشنل پبلشر کی طرف سے شائع ہونا بھی ایک معجزے سے کم نہیں۔
7 - بیروت (لبنان) سے چھپی ہوئی عربی مصادر ومراجع کی کتابیں ہمارے مکتبہ میں دستیاب ہیں۔ خواہش مند حضرات ان کو گڈورڈ بکس (Goodword Books) سے حاصل کرسکتے ہیں۔