امریکا میں وقت کی پابندی کی بہت زیادہ اہمیت ہے ، ان کا تصور یہ ہے کہ مقرر وقت سے پہلے پہنچنے کی کوشش کرو، تاکہ تمھارا وقت پر پہنچنا یقینی ہوجائے۔ امریکی لوگوں کا تصور یہ ہے کہ کسی میٹنگ میں جانا ہے تو تم طے شدہ وقت سے 15 منٹ پہلے پہنچنے کی کوشش کرو— اگر تم مقرر وقت سے 5 منٹ پہلے پہنچے تو گویا کہ تم دس منٹ لیٹ ہوگئے:
If you are five minutes early, you are ten minutes late.
زندگی میں وقت کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں، وقت کے اندر ہی کرتے ہیں۔ وقت ختم تو کام بھی ختم۔ چناں چہ کہاجاتا ہے کہ— وقت، دولت ہے:
Time is money
عربی زبان میں مقولہ ہے کہ: الوقت ہو الحیاۃ، فلا تقتلوہ (وقت ہی کا نام زندگی ہے، تم اس کو ہلاک نہ کرو) ۔ یہ بلاشبہہ نہایت درست ہے۔
زندگی وقت سے بندھی ہوئی ہے۔ انسان کا کوئی بھی کام وقت ہی کے استعمال کی ایک صورت ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص وقت کو جتنا زیادہ استعمال کرسکے، اتنا ہی زیادہ وہ زندگی میں کامیابی حاصل کرے گا۔
وقت کی یہ اہمیت بتاتی ہے کہ وقت کے بارے میں انسان کوبے حد حساس ہونا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی جتنا زیادہ ٹائم کانشس (time-conscious) ہو، اتنا ہی زیادہ وہ باشعور انسان کہاجائے گا۔ ٹائم کانشس ہونا، بااصول انسان کی علامت ہے۔
جو آدمی ٹائم کانشس نہ ہو، وہ بلا شبہہ ایک بے اصول انسان ہوگا۔ انسانیت کے اعلیٰ اقدار کی نسبت سے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ موجودہ زمانے میں گھڑی کی ایجاد نے وقت کی پابندی کو بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ اِسی لیے گھڑی کو ٹائم کیپر (time keeper) کہاجاتاہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔