ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوںنے بتایا کہ میں ایک مشہور مذہبی شخصیت کے ساتھ وابستہ تھا۔ اب میںنے ان سے اپنا تعلق توڑ لیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں ان کی تقریروں سے متاثر ہوا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ وہ دعوت دین کا اعلیٰ جذبہ رکھتے ہیں۔ لیکن چند سال قریب رہنے کے بعد میں نے دریافت کیا کہ اُن کا واحد مقصد مختلف اسٹیج پر نمایاں ہونا ہے۔ چناںچہ ان کی زندگی بس سفر اور تقریر، سفر اور تقریر میں گزرتی ہے۔ حقیقی معنوں میں دعوت دین اُن کا کنسرن (concern)ہی نہیں۔
میں نے کہا کہ آپ کی دریافت (discovery)ابھی بھی نامکمل ہے۔ آپ نے مذکورہ شخصیت کو دریافت کیا، لیکن آپ نے خود اپنے آپ کو دریافت (discover)نہیں کیا۔ اصل غلطی یہ ہے کہ آپ التمییز بین الشیئین (principle of differentiation) کے اصول سے بے خبر تھے۔ آپ کی غلطی یہ ہے کہ ایک شخص جس کا کیس محض خطابت کا کیس تھا، اس کے کیس کو آپ نے داعیٔ دین کا کیس سمجھ لیا۔ اب آپ کو چاہیے کہ آپ خود اپنی غلطی کو دریافت کریں، نہ کہ دوسرے کو غلط بتا کر مزید اپنا وقت ضائع کرتے رہیں۔
اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ کسی نہ کسی کو غلط بتا کر اس کے خلاف شاکی بنے رہتے ہیں۔ یہ طریقہ بے حد تباہ کن ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی ہر منفی واقعہ کو مثبت تجربے میں ڈھالے، وہ دوسرے کی غلطی میں خود اپنی غلطی کو دریافت کرے۔ وہ ہر تجربے کو سبق (lesson) میں کنورٹ کرے۔ ایسا کرنے کا یہ فائدہ ہوگا کہ ہر واقعہ اس کے لیے اپنے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا۔
لوگ شکایتوں میں اِس لیے جیتے ہیں کہ وہ مثبت شخصیت کی اہمیت کو نہیں جانتے۔ منفی خیالات آدمی کے اندر منفی شخصیت بناتے ہیں، اور مثبت خیالات آدمی کے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اِس معاملے میں بے حد حساس رہے۔ وہ کسی بھی حال میں اپنے اندر منفی شخصیت کی پرورش نہ ہونے دے۔ اِس معاملے میں وہ کسی بھی عذر (excuse) کو عذر نہ بنائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.