← Al-Risala August 2020Al-Risala August 2020
مسلم پرسنل لا کا مسئلہ
Urdu · 8 min read
مسلم پرسنل لا (Muslim Personal Law)کا لفظ بظاہر ایک عمومی لفظ ہے، لیکن عملاً اُس سے مراد زیادہ تر نکاح و طلاق کے قوانین ہیں۔ اسلامی شریعت کی رُو سے نکاح وطلاق کے قوانین مقدس قوانین کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ناقابلِ تغیر شرعی قوانین پر مبنی ہیں۔ اِس معاملے میں شریعت کے جو قوانین ہیں، وہ ابدی ہیں اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں یکساں طورپر قابلِ انطباق ہیں۔
نکاح و طلاق کے بارے میں شرعی قوانین کی یہی خصوصی نوعیت اِس بات میں مانع ہے کہ اُن کو سیکولر حکومت کے عدالتی نظام کی ماتحتی میں دے دیا جائے۔ سیکولر عدالتی نظام کی بنیاد وضعی قوانین (man-made laws) پر ہوتی ہے، اور وضعی قوانین ہمیشہ تبدیلی کا موضوع (subject to change) ہوتے ہیں۔ اُن کو کسی بھی وقت ممبرانِ اسمبلی کی کثرتِ رائے سے بدلا جاسکتا ہے۔ اِس بنا پر مسلمانوں کے نکاح و طلاق کے مسئلے کو وضعی قوانین کے تابع کرنا اصولاً درست نہیں۔
موجودہ سیکولر دور سے پہلے اِس مسئلے نے کوئی نزاکت اختیار نہیں کی تھی۔ جن ملکوں میں مسلم حکومتیں قائم تھیں، وہاں ہمیشہ قاضی کا عہدہ ہوا کرتا تھا۔ یہ قاضی مسلمانوں کے نکاح و طلاق کے مسائل کا فیصلہ شرعی قوانین کی روشنی میں دیتے تھے۔ یہ نظام اب بھی کسی حد تک مسلم ملکوں میں جاری ہے۔
آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان ہندستان میں آئے۔ اُس وقت یہاں ہندو راجاؤں کی حکومت تھی۔ مسلمانوں نے ہندوراجاؤں سے درخواست کی کہ ایسا نظام بنایا جائے جس کے تحت مسلمان اپنے عائلی مسائل کا فیصلہ شرعی قانون کی روشنی میں حاصل کرسکیں۔ راجاؤں نے اِس درخواست کو قبول کرتے ہوئے مسلم قاضی کا تقرر کیا، جس کو اُس زمانے میں ’’ہنرمن‘‘ کہاجاتا تھا۔ یہ لفظ غالباً ’’ہنر مند‘‘ کی بدلی ہوئی شکل ہے۔
ہندستان میں جب مسلم سلطنتیں قائم ہوئیں تو انھوں نے یہاں مسلم قاضی مقرر کئے۔ یہ قاضی، مسلمانوں کے عائلی مسائل کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں دیتے تھے۔ یہ سلسلہ مغل عہد کے خاتمہ اور برٹش عہد کے آغاز تک جاری رہا۔
ہندستان میں برٹش دورِ حکومت باقاعدہ طورپر انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں شروع ہوا۔ اِس کے بعد دھیرے دھیرے قاضی کا عہدہ ختم ہوگیا۔ تاہم مسلم رہنماؤں کے مطالبے پر برٹش حکومت نے ایک قانون ’’محمڈن لا‘‘ کے نام سے پاس کیا۔ یہ محمڈن لا زیادہ تر حنفی فقہ کی روشنی میں تیار کیا گیا تھا۔ اِس کے بعد یہ ہوا کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل کا فیصلہ محمڈن لا کے تحت کیا جانے لگا۔ اِس کے لیے علاحدہ قاضی نہیں ہوتے تھے، بلکہ عام ملکی عدالتیں ہی یہ کام انجام دیتی تھیں۔
1947 میں جب ہندستان آزاد ہوا تو یہ نظام بھی عملاً معطل ہوگیا۔ اُس وقت مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: 1958 ) حکومتِ ہند میں وزیر تعلیم تھے۔ مولانا آزاد کی کوششوں سے، دہلی میں ایک ’’اسپیشل جج‘‘ کا تقرر کیاگیا۔یہ اسپیشل جج با اختیار جج تھا اور وہ مسلمانوں کے نکاح وطلاق کے معاملات کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں کرتا تھا۔ آزادی کے بعد پہلے اسپیشل جج کے طورپر سیدعزیز شفیع کا تقرر ہوا۔ ان کی زندگی تک یہ عہدہ جاری رہا۔ لیکن 1979 میں ان کی موت کے بعد اس کا بھی خاتمہ ہوگیا۔
1947 کے بعد اِس سلسلے میں مسلمانوں کے مختلف غیر سرکاری ادارے قائم ہوئے۔ اِن اداروں کو دارالافتاء اور دار القضاء کہا جاتا ہے۔ اِنھیں میں سے ایک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھی ہے۔ اِس کا قیام 1973 میں عمل میں آیا۔ لیکن یہ انتظامات اصل ضرورت کی نسبت سے ناکافی تھے، چناں چہ وہ مطلوب شرعی ضرورت کو پورا نہ کرسکے۔کیوں کہ اُن میں سے کسی ادارے کا فیصلہ قانونی اعتبار سے، بائنڈنگ فیصلے کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔
یہ مسئلہ بلاشبہہ ایک نازک شرعی مسئلہ ہے۔ اُس کا حقیقی حل تلاش کرنا علماء کی ذمّے داری ہے۔ احتجاج اور مطالبات کی نوعیت کی تحریکیں کسی بھی درجے میں اِس مسئلے کا حل نہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک، سیکولر ہندستان کے پس منظر میں، اِس مسئلے کے حل کی دو ممکن صورتیں ہیں:
1 - اِس مسئلے کا پہلا حل یہ ہے کہ ملک میں جامع نوعیت کا ایک دار القضاء قائم کیا جائے۔ اِس دار القضاء کا جزئی تجربہ ریاست بہار میں کیاگیا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دار القضاء کا تصور مکمل طورپر ایک رضاکارانہ تصور ہے۔ دارالقضاء کی کامیابی کا انحصار اِس پر ہے کہ مسلمان اُس کے فیصلے کو لازماً قبول کرلیں، خواہ وہ اُن کے موافق ہو، یا اُن کے خلاف۔
اِس نوعیت کا دارالقضاء صرف اُس وقت عملی صورت اختیار کرسکتا ہے، جب کہ ہندستان کے مسلمانوں میں اتنی بیداری لائی جاچکی ہو کہ وہ خود اپنے اختیار سے، دار القضاء کے فیصلے کو برضا ورغبت قبول کرلیں۔ مگرتادمِ تحریر (17 مارچ2010) مسلمانوں میں یہ مزاج پیدا نہیں ہوا، اِس لیے عملاً دار القضاء کا تصور صرف محدود طورپر قابلِ عمل ہوسکتا ہے، وہ عمومی طورپر مسلمانوں کے مسئلے کا حل نہیں۔
2 - دوسری صورت یہ ہے کہ برٹش دور کی طرح، دوبارہ مسلمانوں کے نکاح وطلاق کے مسئلے کوشرعی بنیاد پر حل کرنے کے لیے ہندستانی پارلیامنٹ سے ایک باقاعدہ ایکٹ پاس کرایا جائے، اور تمام ریاستی اسمبلیاں اِس ایکٹ کی تصدیق کردیں۔ موجودہ مسئلے کا یہی موثر قانونی حل ہے۔
جہاں تک میرا اندازہ ہے، ہندستان میں یہ قانون اُسی طرح بن سکتا تھا، جس طرح وہ برٹش دور میں بنا تھا، مگر ہندستان کے علماء نے اِس معاملے میں غیر حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا۔ انھوں نے تحفظِ شریعت کے نام پر ہندستان کے سیکولر نظام کے خلاف پُر شور احتجاجی تحریکیں شروع کردیں۔
یہ طریقہ صرف حالات کو بگاڑنے کا سبب بنا۔ اگر ہندستانی علماء باقاعدہ طورپر یہ کوشش کرتے کہ ہندستان کی پارلیامنٹ اِس معاملے میں محمڈن لا کے پیٹرن پر زیادہ بہتر ایک قانون وضع کردے، تو یقینی طورپر یہاں اِس قسم کا قانون بن سکتا تھا۔
لیکن اِس قسم کی تعمیری کوشش نہ اُس دور میں ہوئی جب کہ ہندستان میں مولانا ابوالکلام آزاد اور جواہر لال نہرو (وفات:(1964 جیسے اعتدال پسند لیڈر موجود تھے، نہ بعد کے زمانے میں اِس رخ پر کوئی سنجیدہ کوشش انجام دی گئی۔
اِس معاملے کی ایک مثال شاہ بانو کیس ہے۔ شاہ بانو کو اس کے شوہر محمد احمد نے طلاق دیا۔ اِس کے بعد شاہ بانو اِس کیس کو ملکی عدالت میں لے گئی۔ کئی سال کی عدالتی کارروائی کے بعد 1985 میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس مسٹر وی چندرا چوڑ نے اپنا فیصلہ سنادیا۔
اِس فیصلے کے تحت شاہ بانو کو یہ حق دیا گیا تھا کہ شاہ بانو کا سابق شوہر گزارے کے طورپر اس کو 180 روپئے ماہانہ ادا کرے۔ یہ فیصلہ کرمنل پروسیجر کوڈ (criminal procedure code) کی دفعہ 125 کے تحت دیا گیا تھا۔
علماء نے اِس فیصلے کو ’’شریعت میں مداخلت‘‘ قرار دیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت اِس کے خلاف ملکی پیمانے پر جلوس واجتجاج کی پرشور تحریک چلائی گئی، یہاںتک کہ علماء کے مطالبے کے تحت 1986 میں انڈیا کی پارلیامنٹ نے ایک ایکٹ پاس کیا۔ اس کانام مسلم مطلقہ ایکٹ تھا۔
اِس ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد علماء نے ’’یوم فتح‘‘ منایا، لیکن بہت جلد ان کو معلوم ہوا کہ یہ قانون ان کی توقعات کو پورا نہیں کرت۔ علماء کا مطالبہ یہ تھا کہ مسلم مطلقہ خاتون کو دفعہ 125 کے مذکورہ ملکی قانون سے مستثنی قرار دیا جائے۔ اِس قسم کا استثناء سرے سے ممکن ہی نہ تھا، کیوں کہ وہ واضح طورپر دستورِ ہند کے خلاف تھا۔ اِس کے بعد علماء کو چاہیے تھا وہ اپنی نادانی کا اعلان کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ اپنے حجروں میں واپس چلے جائیں۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ بدستور مسلمانوں کے سیاسی اسٹیج پر اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یہ کام بلاشبہہ ایک نازک کام ہے اور اُس کو صرف ہوش مندانہ کوشش کے ذریعے انجام دیا جاسکتا ہے، لیکن مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں نے انتہائی ناعاقبت اندیشانہ طورپر ایسی سیاسی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو صرف معاملات کو بگاڑنے والی ہے، وہ کسی بھی درجے میں اصلاح کا ذریعہ بننے والی نہیں۔
اِس ناعاقبت اندیشانہ پالیسی میں سرفہرست مسلمانوں کی انتخابی پالیسی ہے۔ 1947کے بعد مولانا ابو الکلام آزاد کے مشورے کی روشنی میں، مسلمانوں نے کانگریس کو انتخابی سپورٹ دینے کی پالیسی اختیار کی۔ یہ پالیسی اصولاً درست تھی، لیکن مسلمانوں نے یہ غلطی کی کہ وہ کانگریس سے غیرحقیقت پسندانہ طور پر بہت زیادہ توقع رکھنے لگے۔ یہ توقع عملاً پوری نہیں ہوسکتی تھی اور نہ وہ پوری ہوئی۔
اِس کے بعد چھٹی دہائی میں مسلمانوں نے دوسری نادانی یہ کی کہ انھوں نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر نان کانگریس ازم (non-congressism) کی پالیسی اختیار کی۔ یہ منفی ووٹ (negative voting) کی پالیسی تھی، جو فطری طورپر مسائل میں صرف اضافے کا سبب بنی۔ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد مسلمانوں نے تقریباً متفقہ طورپر الیکشن کے معاملے میں اینٹی بی جے پی کی انتخابی پالیسی اختیار کی۔ یہ منفی پالیسی بھی فطری طورپر مسلمانوں کو کوئی مثبت فائدہ نہ دے سکی۔
ہندستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے۔ مسلمان یہاں ایک اقلیتی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں، مسلمانوں کے لیے یہاں واحد مفید طریقہ یہ ہے کہ وہ اُس پالیسی کو اختیار کریں جس کو ٹائٹ روب واک (tight-rope walk) کہاجاتا ہے، یعنی کسی کو اپنا دشمن نہ بنانا اور ہر ایک سے بقدرامکان سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ 1947کے بعد مسلمان اگر اِس تعمیری پالیسی کو اختیار کرتے تو یقینی طورپر یہاں اب تک وہ قانون بن چکا ہوتا جو مسلمانوںکے عائلی مسئلے کا واحد حل ہے۔